اللہ سے عافیت طلب کیجیے
مفہوم حدیث
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ بیمار تھا اور یہ دعا کر رہا تھا کہ یا اللہ! اگر میری موت کا وقت قریب آگیا ہے تو مجھے اس بیماری سے راحت عطا فرما اور اپنے پاس بلا لیجیے . اور اگر وقت نہیں آیا تو مجھے اٹھا لیجیے اور اگر یہ بیماری میری آزمائش کے لیے ہے تو مجھے صبر عطا فرما نبی کریم ﷺکا گزر میرے پاس سے ہوا تو میں یہ دعا کر رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا تو میں نے اپنے کلمات دہرا دیےتو رسول اللہ ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور یہ دعا فرمائی کہ یا اللہ اس کو عافیت عطا فرما شفاء عطا فرما
تشریح:
اس دنیا میں انسان پر کبھی خوشی آتی ہے اور کبھی اسے مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہےخوشی بھی ایک قسم کی آزمائش ہوتی ہے اور انسان پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ بھی اس کے لیے امتحان ہوتا ہے. اللہ تعالی کبھی انسان پر امنی نعمتیں کھول دیتا ہے اور کبھی انسان کو اپنی کچھ نعمتوں سے محروم فرما دیتا ہےاس لیے ہر وقت اللہ سے عافیت طلب کرنی چاہیے.
یہ عافیت یوں تو ایک لفظ ہے لیکن یہ اپنے اندر ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے انسان کی دینی اور دنیاوی زندگی میں یا اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت کی زندگی میں ہر قسم کے خیر کا حصول اور ہر قسم کے شر سے حفاظت کو عافیت کہتے ہیں اور اس کی اہمیت کا ندازہ اس بات سے لگائیں کہ رسول اللہ ﷺبہت کثرت سے عافیت طلب کیا کرتے تھے.
بعض محدثین فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالی سے سب سے زیادہ عافیت کی دعا مانگی ہے . ایک روایت میںآتا ہے کہ نبی کریم ﷺ صبح و شام یہ کلمات دہرایا کرتے تھے.
اللَّهُمَّ إنِّي أسْأَلُكَ العافيَةَ في ديني، ودُنْيَايَ
“اے اللہ میںآپ سے معافی اور عافیت طلب کرتا ہوں دنیا اور آخرت کے امور میں “
تو اس میں ہمارے لیے بھی ایک تعلیم ہے کہ ہر وقت اللہ سے عافیت مانگنی چاہیے .
اور آج کی روایت میںآپ نے پڑھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کوبیماری کے دوران نبی کریمﷺ نے یہی تلقین فرمائی کہ اللہ تعالی سے عافیت طلب کرو .
بالخصوص اس فتنوں کے دور میں جس میں میں اور آپ جی رہے ہیں جہاں انسان کو فتنوںکی آمد کا پتہ نہیں چلتا، اور انسان دین اور دنیا کے معاملے میںکسی فتنے کا شکار ہو جاتا ہے . تو ایسے دور میںاس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ اللہ تعالی سے ہمیشہ عافیت طلب کی جائے دنیا کے بارے میں بھی اور آخرت کے بارے میںبھی.
