یہود اور عیسائیوں کی باہمی رقابت

yahood-isaai-rqabat

یہود اور عیسائیوں

یہود بڑے دینی سرمائے کے حامل تھے، لیکن اپنی مسلسل نافرمانیوں کے سبب منصبِ امامت سے محروم ہو چکے تھے۔ پے در پے غلامیوں کا شکار رہنا ان کا مقدر بن چکا تھا۔ سودی لین دین نے ان کی طبیعت میں خسیس عادات پیدا کر دی تھیں۔ چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں یہودیوں اور عیسائیوں کی باہمی رقابت اور منافرت بامِ عروج کو پہنچ چکی تھی۔

610ء میں یہودیوں نے انطاکیہ میں عیسائیوں کے خلاف بلوہ کیا۔ عیسائی شہنشاہ فوقا (Phocas) نے ان کی سرکوبی کے لیے مشہور جرنیل بنوسوس (Bonosus) کو بھیجا۔ اس نے پوری یہودی آبادی کو تہہ و تیغ کیا۔ کچھ تلوار کے وار سے مارے گئے، بہت سے پانی میں ڈبو دیے گئے، کچھ کو آگ میں جلایا گیا، اور کچھ کو درندوں کے سامنے پھینک دیا گیا۔

615ء میں جب ایرانیوں نے شام کو فتح کیا (جس کا ذکر قرآن میں بھی ہے) تو یہود کے مشورے سے خسرو نے عیسائیوں کو ملیامیٹ کر دیا۔ ایرانیوں کو مغلوب کرنے اور اپنے علاقے دوبارہ حاصل کرنے کے بعد، 630ء میں ہرقل نے یہودیوں سے سخت انتقام لیا۔ ایسا قتلِ عام کیا کہ رومی مملکت میں صرف وہ یہود بچ سکے جو ملک چھوڑ کر چلے گئے یا کہیں چھپ گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *