(12) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، أَنَّهُ قَالَ:
“نَهَى رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشُّرْبِ مِنْ ثُلْمَةِ الْقَدَحِ، وَأَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ۔”
(ابوداود، سلیمان بن اشعث، م:275ھ، سنن ابی داود، رقم الحدیث:3722، ص:3/337، المكتبة العصرية، صيدا، بيروت)
مفہوم حدیث: حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ٹوٹے ہوئے برتن سے پانی پینا اور برتن میں سانس لینا منع ہے۔
تشریح:
اگر برتن ٹوٹ جائے تو اس میں کھانے پینے کا کیا حکم ہے؟ اس بارے میں نبی کریم ﷺ سے دو قسم کی روایات منقول ہیں۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت عائشہ کے ہاں تشریف فرما تھے کہ دوسری زوجہ محترمہ کے ہاں سے کھانا آیا۔ حضرت عائشہ کو ناگوار گزرا اور پلیٹ کو گرا دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “تمہاری اماں جان کو غیرت آ گئی”، اور پھر آپ ﷺ نے پلیٹ کے ٹکڑے اٹھا کر جو کھانا گرا تھا، اسی ٹوٹی پلیٹ میں سے کھایا۔ (بخاری: 5225)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانے کی گنجائش ہے، اگرچہ یہ عمل مستقل نہ ہو۔
دوسری روایت (سنن ابی داود) کے مطابق نبی کریم ﷺ نے ٹوٹے ہوئے پیالے سے پانی پینے سے منع فرمایا۔ ان دونوں روایات سے چند باتیں واضح ہوتی ہیں:
- ٹوٹی پلیٹ سے ایک وقتی طور پر کھایا جا سکتا ہے، لیکن مستقل عادت نہ بنائی جائے۔
- پینے میں احتیاط زیادہ ضروری ہے کیونکہ ٹوٹی جگہ سے پینے سے ہونٹ زخمی ہو سکتے ہیں یا جراثیم معدے میں جا سکتے ہیں۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ان ارشادات کا تعلق شریعت کے لازمی احکام سے نہیں، بلکہ امت پر شفقت اور طبی مشورے کے طور پر ہے۔ اگر مجبوری ہو تو گنجائش ہے، اور اگر سہولت ہو تو بہتر ہے کہ ان سے اجتناب کیا جائے۔
ہمیں چاہیے کہ شریعت کے ہر حکم کو اس کے محل اور موقع پر رکھ کر سمجھیں، اور نبی کریم ﷺ کی ہر بات کو اسی نسبت سے لیں جس نسبت سے وہ فرمائی گئی ہو۔ یہی دین کا توازن ہے۔
