(43) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَقُولُ اللهُ سُبْحَانَهُ: ’’ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ۔‘‘
(ابن ماجہ، ابو عبداللہ محمد بن یزید، م:273ھ، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1597، ص:1/509، دار احیاء الکتب العربیہ)
مفہوم حدیث:
نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں کہ اے آدم کے بیٹے! اگر تم مصیبت کے ابتدائی وقت میں صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو، تو میں تمہارے لیے جنت سے کم کسی اجر پر راضی نہیں ہوں گا۔
تشریح:
یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف مصیبتوں کے ذریعے بندوں کو آزماتے ہیں، جیسے رزق کی کمی، گھریلو مشکلات، یا کسی عزیز کا انتقال۔ ان سب میں بندے کا رد عمل دیکھا جاتا ہے۔ اگر وہ صبر کا مظاہرہ کرے تو اس کے لیے بے شمار اجر ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۱۰
(سورۃ الزمر:10)
یعنی “صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجر دیا جائے گا۔”
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جب کسی بندے کے بیٹے کا انتقال ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتے ہیں: “تم نے میرے بندے کے بیٹے کی جان لے لی؟” وہ عرض کرتے ہیں: “جی ہاں۔” پھر پوچھتے ہیں: “اس کا رد عمل کیا تھا؟” تو فرشتے کہتے ہیں: “اس نے حمد و ثنا کی اور کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: “میرے بندے کے لیے جنت میں ایک محل بنا دو اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔” (ترمذی:1021)
اس سے معلوم ہوا کہ مصیبت کے وقت صبر کرنے، اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنے اور شکوہ نہ کرنے پر دنیا و آخرت میں بے شمار انعامات ملتے ہیں۔ چاہے جانی نقصان ہو یا مالی، اگر بندہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ اسے بہترین بدلہ عطا فرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
