(42) كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو فَبَايِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا۔
(مسلم، مسلم بن حجاج قشیری، م: 261ھ، صحیح مسلم، رقم الحدیث:223، ص: 203، ج:1، ناشر: دار احیاء التراث العربی، بیروت)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’آدمی جب صبح اٹھتا ہے تو وہ اپنی جان کا سودا کرتا ہے، یا اسے آزاد کرتا ہے یا پھر اسے ہلاک کرتا ہے۔‘‘
تشریح:
ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ خرید و فروخت میں ایسی چیز کا انتخاب کرے جس میں فائدہ ہو اور نقصان سے بچ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی کے قیمتی لمحات عطا فرمائے ہیں۔ اگر ہم ان لمحات کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، عبادات، حقوق العباد کی ادائیگی، اور جھوٹ، دھوکہ، غیبت، اور بد اخلاقی سے بچ کر گزاریں تو یہی حقیقی منافع ہے۔
صبح جب انسان بیدار ہوتا ہے، تو اس کا ہر عمل اس کی “روحانی تجارت” کا حصہ ہوتا ہے۔ اگر وہ نیک اعمال، سچائی، اور اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارتا ہے تو وہ اپنی جان کو آزاد کرتا ہے اور کامیاب ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ گناہ، نافرمانی، اور ظلم کی راہ اختیار کرتا ہے تو گویا وہ اپنی جان کو ہلاک کر دیتا ہے۔
حدیث ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ روزانہ کی زندگی کو ایک “تجارت” سمجھیں، جس میں خسارے سے بچ کر نفع حاصل کرنا ہے۔ اصل کامیابی وہی ہے جو آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کی صورت میں حاصل ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی روزانہ کی “تجارت” میں کامیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
