ایران کی معاشرتی و مذہبی صورتحال
روم کی طرح ایران بھی دنیا کی بڑی قوت شمار ہوتا تھا۔ یہاں وہ لوگ رہتے تھے جو آگ کو دیوتا سمجھتے تھے اور اپنے بادشاہ کو بھی دیوتا کا درجہ دیتے تھے۔ سلاطین کا لقب “کسریٰ” (خسرو) ہوا کرتا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی رگوں میں خدائی خون بہتا ہے، اور ایرانی ان کے سامنے سربسجود ہوتے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ سلاطین کا ہر انسان پر پیدائشی حق ہے اور کسی انسان کا سلاطین پر کوئی حق نہیں۔ اگر بادشاہ کسی کو کچھ عطا کرے تو وہ اس کا احسان ہے، استحقاق نہیں۔
حکومت کو شاہی خاندان کا موروثی حق سمجھا جاتا تھا۔ اگر شاہی خاندان میں کوئی سن رسیدہ مرد نہ ہوتا تو بچے کو بادشاہ بنا دیا جاتا، اور اگر مرد نہ ہوتا تو عورت کو تخت پر بٹھا دیا جاتا۔ شیرویہ کے بعد اس کے سات سالہ بیٹے اردشیر کو بادشاہ بنایا گیا، اور کسریٰ کی بیٹیاں بوران اور آزرمی دخت بھی حکومت کر چکی ہیں۔
مذہبی گھرانوں اور شخصیات کو عام انسانوں سے بلند سمجھا جاتا اور انہیں لامحدود اختیارات حاصل تھے۔ کسی جامع مذہب سے محروم ہونے کی وجہ سے ایرانی معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار تھا۔ تیسری صدی عیسوی میں مانی نے شہوت پرست معاشرے کو تجرد اختیار کرنے کی دعوت دی، جبکہ اس کے مقابل مزدک نے تمام عورتوں کو سب کے لیے حلال قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں محرم رشتوں سے ازدواجی تعلقات، جو ہمیشہ دنیا میں معیوب سمجھے گئے ہیں، اہلِ ایران جائز سمجھنے لگے۔
یزدگرد دوم نے اپنی بیٹی سے نکاح کیا اور بعد میں اسے قتل کر دیا۔ چھٹی صدی عیسوی میں ایرانی بادشاہ بہرام نے اپنی بہن سے ازدواجی تعلق قائم کیا۔ ایسے گھناؤنے افعال نے ایرانی معاشرے کو شدید معاشرتی تباہی سے دوچار کر رکھا تھا۔
