اخلاص کی اہمیت

ikhlas-ki-ahmiyat

مفہوم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشاد کا مفہوم ہے کہ علماء پر برائی جتلانا بے وقوف لوگوں کے لڑنے جھگڑنے اور مجلسی جمانے کے لیے علم حاصل نہ کرو اور جو ایسا کرے گا تو اس کے لیے آگ ہے آگ

تشریح

اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے ہر عمل میں دو چیزیں مطلوب ہیں پہلی چیز تو رضا کے بندے کے دل میں آج بھی ہو کسی قسم کی برائی بندے کے دل میں کوئی عمل کرتے ہوئے نہ ہو تکبر ایک ایسا مرض ہے جو دل کے خانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے کوئی انسان ہزار کہے میرے اندر تکبر نہیں لیکن وہ مرض کسی نہ کسی موقع پر سامنے آ ہی جاتا ہے اس کا علاج کرنا پڑتا ہے لوگوں سے یہ توقع رکھنا کہ لوگ میرے لیے کھڑے ہو میرا اہتمام کریں اور میرے کمال کا اعتراف کریں یہ بھی تکبر ہی کی ایک شکل ہے

دوسری چیز اللہ تعالی کو اپنے بندوں سے یہ مطلوب ہے کہ بندہ جو بھی کام کرے اللہ کی رضا کے لیے کرے خالد کی رضامندی کے حصول کے لیے کوئی عمل کرنا یہ اس عمل کی قبولیت کی دلیل ہے

اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے والوں کو چند نصیحتیں فرمائیں ہیں کہ علم جو بھی حاصل کرے اس کی نیت خالص ہونی چاہیے آج بھی اس کے پیش نظر ہو اور صرف اللہ تعالی کی رضا مندی کے لئے علم حاصل کرے اور اگر کوئی شخص اس لئے علم حاصل کریں کہ لوگ میری قدر کریں میرے کمال کا اعتراف کریں وہ دیگر اہل علم پر برائی بھلائی کے لئے علم کے حصول میں محنت کرے یا اس لئے علم حاصل کرے کہ علم حاصل کرنے کے بعد میں مجلسی میں جاؤں گا تقریریں کیا کروں گا لوگ میری طرف متوجہ ہوں گے اور میری تعریف کریں گے میرے گن گائیں گے یا اس لئے علم حاصل کریں کہ علم حاصل کرکے میں لوگوں کے خلاف حجت قائم کروں گا کروں گا تو ایسا علم اس کے لیے وبال بن جائے گا

علم کے حصول میں صرف اللہ تعالی کی رضا مندی مطلوب ہو نہ اپنی برائی مطلوب ہوں اور نہ اپنے کمال کا اعتراف مطلوب ہو ان امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب آدمی علم حاصل کرتا ہے تو وہ گویا اللہ تعالی کے
راستے میں ہوتا ہے اور اس کا معاشرتی فائدہ یہ ہے کہ معاشرہ فرقہ واریت سے پاک ہو جائے گا
اللہ تعالی مجھے آپ کو عمل کرنے کی توفیق دے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *