دنیاوی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوتیں

دنیاوی خواہشات کبھی پوری نہیں ہوتیں

(40) عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ:

“لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ”

(مسلم، مسلم بن حجاج القشیری، م: 261ھ، صحیح المسلم، رقم الحدیث: 1048، ص: 2/725، دار احیاء التراث العربی)

مفہوم حدیث: حضرت انس  فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ: اگر انسان کو مال سے بھری ہوئی دو وادیاں دے دی جائیں تو وہ تیسری وادی کی خواہش کرے گا، اور انسان کی خواہشات کو صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔

تشریح:

نبی کریم ﷺ سے اس مفہوم کی کئی روایات منقول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر خواہشات کا ایک نہ ختم ہونے والا جذبہ رکھا ہے۔ اگر انسان ان خواہشات کے پیچھے چلنا شروع کر دے، تو یہ اسے مسلسل بےچینی اور پریشانی میں مبتلا رکھتی ہیں۔

برصغیر کے ایک بزرگ نے فرمایا کہ انسان کی زندگی کے دو راستے ہیں: ایک تجویز کی زندگی اور دوسرا تفویض کی زندگی۔ تجویز کی زندگی وہ ہے جہاں انسان اپنی مرضی کے مطابق دنیا سے سب کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے: دولت، شہرت، منصب، عزت، گاڑیاں، بنگلے… اور ایسی زندگی ہمیشہ اضطراب کا شکار رہتی ہے کیونکہ انسان کی خواہشات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

جبکہ تفویض کی زندگی وہ ہے جس میں انسان اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے، یہ سوچ کر کہ جو اللہ نے دیا ہے، وہی بہتر ہے۔ وہ جائز محنت کرتا ہے، اسباب اختیار کرتا ہے، لیکن نتائج پر راضی رہتا ہے۔ یہی اللہ کی مرضی پر راضی رہنا خوشی کا اصل راز ہے۔

اگر انسان خواہشات کے پیچھے چلتا رہے تو وہ کبھی خوش نہیں ہو سکتا، جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا: “اگر اسے دو وادیاں مل جائیں، تب بھی وہ تیسری کی خواہش کرے گا۔” لیکن اگر وہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر قناعت کرے، تو دل کو سکون ملتا ہے، اور زندگی خوشگوار بن جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں تجویز کی بجائے تفویض کی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، اور دنیا کی فانی چیزوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی ہمت عطا فرمائے۔ آمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *