دوشِ نبی کریم ﷺ کا حسن و جمال
(4) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «مَرْبُوعًا، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ۔
(بخاری، محمد بن اسماعیل البخاری، م:256ھ، صحیح البخاری، رقم الحدیث:3551، ص:4/188، دار طوق النجاة، ط:الأولى 1422ھ)
مفہوم حدیث:
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کا قد درمیانہ تھا اور آپ ﷺ کے دونوں کاندھوں کے درمیان فاصلہ تھا۔
تشریح:
یہ روایت نبی کریم ﷺ کے حلیہ مبارک کے بیان میں ہے۔ اس میں پہلی بات یہ بیان فرمائی گئی کہ نبی کریم ﷺ کا قد مبارک درمیانہ تھا۔ لمبا قد ہونا یا قد کا زیادہ چھوٹا ہونا خوبصورتی کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو درمیانہ قد عطا فرمایا تھا۔ درمیانہ قد ہونے کے باوجود یہ حضور اکرم ﷺ کا معجزہ تھا کہ جب آپ ﷺ صحابہ کرام ؓ کے درمیان ہوتے تو آپ ہی سب سے بلند نظر آتے۔
دوسری بات یہ بیان ہوئی کہ نبی کریم ﷺ کے کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا۔ مختلف روایات میں نبی کریم ﷺ کے دوشِ اقدس کے بارے میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے مبارک کندھے گولائی میں تھے، دبلے پتلے نہیں تھے بلکہ بھرے بھرے تھے، مضبوط و توانا تھے، اور خوبصورتی و حسن میں بے مثال تھے۔
چنانچہ حضرت انس ؓ کی ایک روایت ہے کہ بعض اوقات کوئی دیہاتی آتا اور ان دیہاتیوں کو بسا اوقات دربارِ نبوی میں حاضری کے آداب معلوم نہیں ہوتے تھے۔ آداب سے لاعلمی کی وجہ سے اگر کوئی دیہاتی آپ ﷺ کی قمیص مبارک یا چادر مبارک کو کھینچتا، تو آپ ﷺ کے مبارک کندھے نظر آنے لگتے، وہ خوبصورتی اور چمک میں اتنے بے مثال ہوتے کہ ہمیں ایسا معلوم ہوتا جیسے ہم چاند کا کوئی ٹکڑا دیکھ رہے ہوں۔ (سبل الهدى والرشاد: 2/43)
آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مناسب فاصلہ تھا، اور اس فاصلے کی وجہ سے سرکار دو عالم ﷺ کا سینہ مبارک فراخ اور کشادگی کی طرف مائل تھا۔ ملا علی قاریؒ نے نبی کریم ﷺ کے مبارک کندھوں کا نقشہ یوں کھینچا ہے کہ آپ ﷺ کے دونوں کندھوں کے درمیان مناسب فاصلہ تھا اور مجلس میں آپ ﷺ کے مبارک کندھے دور سے آنے والوں کو نمایاں طور پر نظر آتے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے اور آپ کو نبی کریم ﷺ کے اوصاف پڑھنے اور اس کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
