مشکل حالات میں دین پر عمل
مفہوم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ دین آغاز میں اجنبی تھا اور عنقریب یہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا ان لوگوں کے لیے خوشخبری ہے جن کو دین کی وجہ سے اجنبی سمجھا جائے یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے پر عمل کریں گے جس کو میرے بعد لوگوں نے بگاڑ رکھا ہوگا
تشریح
دین کے احکامات پر عمل کرنے کے لئے انسان کو کسی حد تک مشقت اٹھانی پڑتی ہے جیسے سردیوں کے موسم میں نماز پڑھنا کہ اس میں وضو کرنا پڑتا ہے اور دوسری برداشت کے مسجد جانا پڑتا ہے اسی طرح تمام احکامات میں سے کسی نہ کسی حد تک مشقت گوارا کرنی پڑتی ہے اور ایسی مشقت اٹھانے پر انسان اللہ تعالی کے ہاں اجر و ثواب کا امیدوار ہوتا ہے اللہ تعالی بندے کی قربانی کو دیکھتے ہیں اور جتنی قربانی انسان دین کے لئے دیتا ہے اسی کے بقدر انسان کے ساتھ نعمتوں اور اجروثواب کا معاملہ رکھا جاتا ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے متعدد فرامین میں امت کے آخری طبقے کے دین پر عمل کرنے کے فضائل ذکر فرمائے ہیں کیونکہ آخری دور میں جب فتنہ کا دور ہوگا اس میں دین پر عمل کرنے کے لئے بڑی مشقت برداشت کرنی پڑے گی چونکہ اللہ کے ہاں یہ قانون ہے کہ مشقت کے بقدر ثواب ملتا ہے اس لیے فساد کے دور میں دین پر عمل کرنے کا ثواب بھی زیادہ ہے
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ جو آدمی میری امت کے فساد کے دور میں میری ایک سنت کو زندہ رکھ دے تو اللہ کے ہاں اسے سو شہیدوں کے ثواب کے برابر اجر ملتا ہے
ایک شہید کا ثواب آدمی کی مغفرت کے لیے کافی ہے ہے چونکہ انسان سو شہید کے برابر ثواب ملے اب غور طلب بات یہ ہے کہ جو ایک سنت کو زندہ کرنے کا اتنا بڑا اجر اس حدیث میں مذکور ہے اس کی بنیاد وجہ یہ ہے کہ اس پر فتن دور میں سنت پر عمل کرنا دشوار بہت ہے
چنانچہ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ایسا دور آئے گا کہ اس میں انسان کو ہاتھ پر انگارہ رکھنا تو آسان نظر آئے گا لیکن دین پر عمل کرنا اسے دشوار معلوم ہوگا
آج جو ہم نے روایت پڑھے اس میں بھی یہی بات مذکور ہے کہ دین آخر میں اجنبی ہو جائے گا یعنی لوگ اسے اجنبی نگاہوں سے دیکھیں گے اور دین پر عمل کرنا لوگوں کے لئے دشوار ہوگا اور جو لوگ دین پر عمل کریں گے لوگ ان کو بھی اجنبی نگاہوں سے دیکھیں گے
جیسے آج کے معاشرے میں مولوی کا لفظ بد نام ہے اور جو کوئی آدمی دین پر عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اگر کوئی داڑھی رکھ لیں تو سنت پر عمل کی کوشش کرے تو لوگ اسے طرح طرح کے طعنے دیتے ہیں آوازیں کستے ہیں
تو خوب سمجھ لیجئے کہ یہ وہ دور ہے جس میں زوال عام ہے اور لوگ دین سے دور ہیں اس دور میں اگر کوئی دین پر عمل کرتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ان روایات میں اس کے لیے خوشخبری ہے جیسے اس روایت میں آپ نے سنا کہ دین اجنبی ہو جائے گا اور کچھ خبریں ہے ان لوگوں کے لئے جن کو دین کی وجہ سے اجنبی سمجھا جائے گا کہ آپ دین پر عمل کرتے ہیں سنت پر عمل کرتے ہیں اور حلیے پر سنت کو نافذ کرتے ہیں اور اس وجہ سے کوئی آپ اجنبی نگاہوں سے دیکھتا ہے آباد کس طرح ہے تو یہ آپ کے لئے تمغائے امتیاز ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوشخبری دی ہے چنانچہ کوشش کرنی چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ تین کے احکامات پر عمل کیا جائے
-اللہ تعالی آپ کو اور مجھے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
