نبی کریم ﷺ کے دستِ اقدس کی برکات
(5) عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَإِذَا هِيَ “أَلْيَنُ مِنَ الْحَرِيرِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ۔”
(طبرانی، سلمان بن احمد الطبرانی، م:360ھ، المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث:7110، ص:7/272، مکتبہ ابن تیمیہ القاہرہ، ط: الثانیہ)
مفہوم حدیث:
حضرت مستورد بن شداد ؓ اپنے والد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں، جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے نبی کریم ﷺ کا دستِ اقدس تھاما، تو مجھے سرکار دو عالم ﷺ کا دستِ اقدس ریشم سے زیادہ نرم اور برف سے زیادہ ٹھنڈا لگا۔
تشریح:
نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھوں کو اللہ جل جلالہ نے کچھ خصوصیات عنایت فرمائی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دستِ اقدس کو چھونے والا آپ ﷺ کی نرمی، ٹھنڈک اور خوشبو کو واضح طور پر محسوس کرتا۔
ان خصوصیات کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے مبارک ہاتھوں میں عجیب و غریب تاثیر رکھی تھی۔ کتب حدیث اور سیرت میں مختلف واقعات ملتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ کے دستِ اقدس کی کوئی نہ کوئی تاثیر ظاہر ہوئی ہو۔
چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ غزوہ بدر میں حضرت عکاشہ بن محصن ؓ کی تلوار ٹوٹ گئی تو نبی کریم ﷺ نے ان کو ایک لکڑی عطا فرمائی اور وہ لکڑی ان کے ہاتھ میں جا کر تلوار بن گئی۔ (الطبقات الکبری:188)
غزوہ اُحد کا ایک واقعہ ہے کہ ایک صحابی حضرت عبداللہ بن جحش ؓ کو حضور اکرم ﷺ نے کھجور کی ایک خشک ٹہنی عطا فرمائی جو ان کے پاس جا کر تلوار کی صورت میں بدل گئی۔ (الخصائص الکبری:359)
امام سیوطی نے کتاب ’’الخصائص الکبریٰ‘‘ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک صحابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں رات کو بیٹھے ہوئے تھے۔ بارش ہو رہی تھی، طوفان تھا اور بالکل اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ وہ صحابی دیر تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بیٹھے رہے۔ تو جاتے وقت نبی کریم ﷺ نے ان کو ایک لکڑی عطا فرمائی اور فرمایا: یہ لکڑی ہاتھ میں پکڑ لو، جب تم باہر اندھیرے میں جاؤ گے تو یہ لکڑی تمہیں دس ہاتھ آگے اور دس ہاتھ پیچھے تک روشنی دے گی۔ اور جب تم اپنے گھر میں داخل ہونے لگو گے تو تمہیں ایک سیاہ چیز نظر آئے گی، تو اسی لکڑی سے اسے مار مار کر بھگا دینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب وہ صحابی باہر نکلے تو اللہ تعالیٰ نے اس لکڑی میں روشنی کی تاثیر رکھی اور جب وہ گھر پہنچے تو انھیں وہی سیاہ چیز نظر آئی جسے انھوں نے لکڑی سے مار کر بھگا دیا۔
اس طرح کی مختلف روایات ملتی ہیں جن میں آپ ﷺ کے مبارک ہاتھوں کی کسی تاثیر کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ نبی ﷺ کے معجزات اور نبی کریم ﷺ کی سیرت کو پڑھا جائے تاکہ میرے اور آپ کے دلوں میں سرکار دو عالم ﷺ کی محبت اور عشق میں اضافہ ہو۔
اللہ جل جلالہ مجھے اور آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
