چین،ہندوستان

cheen-hindustan

چین، ہندوستان اور وسط ایشیاء کی دیگر اقوام کی صورتحال

چھٹی صدی عیسوی میں ہندوستان معاشرتی تباہی میں دیگر دنیا سے کہیں آگے تھا۔ معبودوں کی کثرت، جنسی بحران اور طبقاتی نظام نے اس کی سماجی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا تھا۔ بت پرستی کا یہ عالم تھا کہ نباتات، حیوانات، معدنیات، یہاں تک کہ آلاتِ تناسل تک کے مجسمے بنا کر ان کی پوجا کی جاتی تھی۔ ان کے مذہبی لٹریچر میں دیوتاؤں اور دیویوں کے باہمی اختلاط کے ایسے واقعات بیان کیے جاتے تھے جنہیں پڑھ کر پیشانی عرق آلود ہو جاتی ہے۔

مندروں کے منتظمین بد اخلاقی کا سرچشمہ تھے۔ بہت سی عبادت گاہیں برائی کے مراکز کا روپ دھار چکی تھیں۔ طبقاتی نظام جس قدر ہندوستان میں رائج تھا، دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ’’منوجی‘‘ نے اس نظام کو باقاعدہ قانونی حیثیت دی۔ ان کے مرتب کردہ منوشاستر میں مختلف ذاتوں کی تقسیم اور ان کے مراتب بیان کیے گئے ہیں۔

بدھ مت اپنی سادگی اور انفرادیت سے محروم ہو چکا تھا۔ ہندوستان کی بت پرستی کو قبول کر کے یہ مذہب اپنا بنیادی فلسفہ کھو بیٹھا۔ اب اس مذہب کے حاملین جہاں جاتے، گوتم بدھ کے مجسمے نصب کرتے۔ اس مذہب کے پاس کوئی عملی پیغام نہ ہونے کی وجہ سے اس کے پیروکار ممالک، مثلاً چین، بھی معاشرتی تباہی کا شکار تھے۔

مشرق اور وسط ایشیاء کی دیگر اقوام جیسے مغل، ترک اور جاپانی وغیرہ بگڑے ہوئے بدھ مت اور بت پرستی کے درمیان تھیں۔ وحی کی رہنمائی سے محرومی ان کی سماجی بربادی کا بنیادی سبب تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *