
اسلام میں آسانی کا تصور اور حدود
اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی) بزرگان محترم اور میرے عزیر دوستو اور بھائیو! اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اسے مختلف قسم کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ انسان کو اللہ تعالی نے جسمانی اور ذہنی اتنی صلاحیتیں اور طاقتیں عطا فرمائی ہیں کہ ایک طرف اس نے زمین اور سمندر کی گہرائیوں کو مسخر کیا اور دوسری طرف فضا کے وسعتوں کو اپنا تابع بنایا ہے۔ کائنات کے مختلف چھپے ہوئے راز ہر نت نئے دن انسان جاننے کی کوشش میں ہے اور بہت ساری کوششوں میں کامیاب بھی ہے۔ تو یہ انسان کی طاقت کی صورتحال ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے انسان کو لاچار بھی بنایا ہے۔ کہ انسان کہ انسان مجبور ہے۔ وہ بیماری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ موسم کی سردی اور گرمی اور مختلف قسم کے جو مصائب دنیا میں پیش آتے ہیں انسان اسے متاثر ہوتا ہے۔ کہ ٹھنڈی ہوا بھی اس پہ اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ گرم لو بھی اس کو متاثر کر دیتی ہے۔ تو ایک طرف انسان کو اللہ نے خوب طاقتیں دی ہیں اور دوسری طرف اس کو لاچار ضعیف اور کمزور بھی بنایا ہے ۔تو یہ انسان کی دو متضاد صفات ہیں ۔کہ ایک رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی طاقتور نظر آتا ہے۔ اور دوسرے رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی مجبور نظر آتا ہے۔ اتنا مجبور کہ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہو سکتا ہے نہ اپنی مرضی سے اپنے لیے خاندان کا انتخاب کر سکتا ہے کہ میں کس خاندان میں پیدا ہوں گا اور نہ ہی دنیا سے جانے کے لیے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو یہ انسان کو متضاد قسم کی صفات اللہ تبارک و تعالی نے عطا کر رکھی ہیں۔ شریعت چونکہ تمام انسانوں کے لیے ہے جہاں انسانوں میں مشترکہ طور پر اللہ نے کمزوری کی صفت پیدا کی ہے۔ وہاں انسان اپنی صفات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ایک انسان ذرا طاقتور ہوتا ہے، ایک انسان کمزور ہوتا ہے، ایک کی صحت اچھی ہوتی ہے، ایک کی کچھ کمزور ہوتی ہے، ایک کی عمر زیادہ ہوتی ہے، دوسرے کی کم ہوتی ہے۔ اور شریعت تمام انسانوں کے لیے ہے چاہے وہ کمزور ہو یا چاہے وہ طاقتور ہو تو اللہ تبارک و تعالی نے شریعت کے نزول میں تمام انسانوں کے مصلحت کو پیش نظر رکھا کہ جب احکامات دیے جاتے ہیں تو اس میں جہاں طاقتور کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہاں کمزور کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ جہاں صحت مند کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ وہاں ایک بیمار نے بھی شریعت پہ عمل کرنا ہے اس نے بھی دین پر چلنا ہے۔ اس نے بھی اللہ تبارک و تعالی کی رضامندی کے حصول کو اپنے لیے یقینی بنانا ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالی نے کمزوروں کی کمزوری کو پیش نظر رکھتے ہوئے دین میں ایک بنیادی صفت کو شامل کیا جسے ہم یسر عربی زبان میں کہتے ہیں اور اردو میں آسانی کہتے ہیں ۔کہ اللہ تبارک و تعالی نے دین میں آسانی کو پیدا کیا کہ یہ دین آسان ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی جگہ جگہ ہے۔ وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ترجمہ:”اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی” اللہ تبارک و تعالی نے تمہارے لیے دین میں کوئی مشقت نہیں رکھی،مشکل نہیں رکھی۔ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ ترجمہ: “اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا” اللہ تبارک و تعالی نے یہ ارادہ نہیں کیا یہ اس کی مشیت نہیں ہے کہ وہ تم لوگوں کو مشقت میں ڈال دے۔ بلکہ اللہ جل جلالہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف انداز اور مختلف پیرائے میں اللہ تبارک و تعالی نے ان حقائق کو واضح فرمایا کہ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔اگر کوئی نابینہ ہے تو اللہ جل جلالہ نے اس پر کوئی مشقت نہیں رکھی، اس کے لیے آسانی رکھی ہے۔ اسی طریقے سے اگر کوئی شخص مریض ہے بیمار ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے بھی کوئی مشکل نہیں رکھی، مشقت نہیں رکھی ،بلکہ اللہ جل جلالہ نے ان بیماروں کے لیے ان لاچاروں کے لیے اسانی رکھی ہے کہ اگر کوئی صحت مند ہے تو وہ دین میں عظیمت کے راستے پر عمل پیرا ہو، کہ جو دین کے اصل احکامات ہیں کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی ہے، روزہ رکھنا ہے اور اسی طریقے سے جو بھی احکامات صحت مند کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ تو جو شخص حالت صحت میں ہے تو وہ ان احکامات میں عمل کرے۔ لیکن دوسری طرف اگر کوئی شخص کمزور ہے، مجبور ہے، بیمار ہے، کوئی اور ذوق(ضعف) اس کو لاحق ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے دین میں نرمی پیدا کی ہے۔ آسانیاں رکھی ہیں۔ قران کریم میں جگہ جگہ اپ کو اس قسم کی آیات ملیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعدد فرامین میں دین کی اس بنیادی صفت کو واضح فرمایا ۔ چنانچہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ اِنَّ هَذَا الدِّيْنَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّيْنَ اَحَدٌ الاَّ غَلَبَهُ اللہ تعالی نے اس دین میں آسانی رکھی ہے اور اگر کوئی شخص اس کو پچھاڑنے کی کوشش کرے گا یعنی دین میں شدت لانے کی کوشش کرے گا بے جا سختی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ دین اس کو عاجز کر دے گا ۔ وہ نہیں لا سکتا اس میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ یہ دونوں بڑے معروف جلیل القدر صحابہ ہیں ان کو نبی کریم صلی اللہ…