اسلام میں آسانی کا تصور اور حدود

اسلام میں آسانی کا تصور اور حدود

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ  وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی) بزرگان محترم اور میرے عزیر دوستو اور بھائیو!    اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اسے مختلف قسم کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ انسان کو اللہ تعالی نے جسمانی اور ذہنی اتنی صلاحیتیں اور طاقتیں عطا فرمائی ہیں کہ ایک طرف اس نے زمین اور سمندر کی گہرائیوں کو مسخر کیا اور دوسری طرف فضا کے وسعتوں کو اپنا تابع بنایا ہے۔ کائنات کے مختلف چھپے ہوئے راز ہر نت نئے دن  انسان جاننے کی کوشش میں ہے اور بہت ساری کوششوں میں کامیاب بھی ہے۔ تو یہ انسان کی طاقت کی صورتحال ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے انسان کو لاچار بھی بنایا ہے۔ کہ انسان کہ انسان مجبور ہے۔ وہ بیماری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ موسم کی سردی اور گرمی اور مختلف قسم کے جو مصائب دنیا میں پیش آتے ہیں انسان اسے متاثر ہوتا ہے۔ کہ ٹھنڈی ہوا بھی اس پہ اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ گرم لو بھی اس کو متاثر کر دیتی ہے۔ تو ایک طرف انسان کو اللہ نے خوب طاقتیں دی ہیں اور دوسری طرف اس کو لاچار ضعیف اور کمزور بھی بنایا ہے ۔تو یہ انسان کی دو متضاد صفات ہیں ۔کہ ایک رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی طاقتور نظر آتا ہے۔ اور دوسرے رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی مجبور نظر آتا ہے۔ اتنا مجبور کہ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہو سکتا ہے نہ اپنی مرضی سے اپنے لیے خاندان کا انتخاب کر سکتا ہے کہ میں کس خاندان میں پیدا ہوں گا اور نہ ہی دنیا سے جانے کے لیے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو یہ انسان کو متضاد قسم کی صفات اللہ تبارک و تعالی نے عطا کر رکھی ہیں۔  شریعت چونکہ تمام انسانوں کے لیے ہے جہاں انسانوں میں مشترکہ طور پر اللہ نے کمزوری کی صفت پیدا کی ہے۔ وہاں انسان اپنی صفات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ایک انسان ذرا طاقتور ہوتا ہے، ایک انسان کمزور ہوتا ہے، ایک کی صحت اچھی ہوتی ہے، ایک کی کچھ کمزور ہوتی ہے، ایک کی عمر زیادہ ہوتی ہے، دوسرے کی کم ہوتی ہے۔ اور شریعت تمام انسانوں کے لیے ہے چاہے وہ کمزور ہو یا چاہے وہ طاقتور ہو تو اللہ تبارک و تعالی نے شریعت کے نزول میں تمام انسانوں کے مصلحت کو پیش نظر رکھا کہ جب احکامات دیے جاتے ہیں تو اس میں جہاں طاقتور کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہاں کمزور کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ جہاں صحت مند کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ وہاں ایک بیمار نے بھی شریعت پہ عمل کرنا ہے اس نے بھی دین پر چلنا ہے۔ اس نے بھی اللہ تبارک و تعالی کی رضامندی کے حصول کو اپنے لیے یقینی بنانا ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالی نے کمزوروں کی کمزوری کو پیش نظر رکھتے ہوئے دین میں ایک بنیادی صفت کو شامل کیا جسے ہم یسر عربی زبان میں کہتے ہیں اور اردو میں آسانی کہتے ہیں ۔کہ اللہ تبارک و تعالی نے دین میں آسانی کو پیدا کیا کہ یہ دین آسان ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی جگہ جگہ ہے۔ وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ترجمہ:”اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی”  اللہ تبارک و تعالی نے تمہارے لیے دین میں کوئی مشقت نہیں رکھی،مشکل نہیں رکھی۔  مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ ترجمہ: “اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا” اللہ تبارک و تعالی نے یہ ارادہ نہیں کیا یہ اس کی مشیت نہیں ہے کہ وہ تم لوگوں کو مشقت میں ڈال دے۔ بلکہ اللہ جل جلالہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف انداز اور مختلف پیرائے میں اللہ تبارک و تعالی نے ان حقائق کو واضح فرمایا کہ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔اگر کوئی نابینہ ہے تو اللہ جل جلالہ نے اس پر کوئی مشقت نہیں رکھی، اس کے لیے آسانی رکھی ہے۔ اسی طریقے سے اگر کوئی شخص مریض ہے بیمار ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے بھی کوئی مشکل نہیں رکھی، مشقت نہیں رکھی ،بلکہ اللہ جل جلالہ نے ان بیماروں کے لیے ان لاچاروں کے لیے اسانی رکھی ہے کہ اگر کوئی صحت مند ہے تو وہ دین میں عظیمت کے راستے پر عمل پیرا ہو،  کہ جو دین کے اصل احکامات ہیں کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی ہے، روزہ رکھنا ہے اور اسی طریقے سے جو بھی احکامات صحت مند کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ تو جو شخص حالت صحت میں ہے تو وہ ان احکامات میں عمل کرے۔ لیکن دوسری طرف اگر کوئی شخص کمزور ہے، مجبور ہے، بیمار ہے، کوئی اور ذوق(ضعف)  اس کو لاحق ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے دین میں نرمی  پیدا کی ہے۔ آسانیاں  رکھی  ہیں۔ قران کریم میں جگہ جگہ اپ کو اس قسم کی آیات ملیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعدد فرامین میں دین کی اس بنیادی صفت کو واضح فرمایا ۔ چنانچہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ اِنَّ هَذَا الدِّيْنَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّيْنَ اَحَدٌ الاَّ غَلَبَهُ  اللہ تعالی نے اس دین میں آسانی رکھی ہے اور اگر کوئی شخص اس کو پچھاڑنے کی کوشش کرے گا یعنی دین میں شدت لانے کی کوشش کرے گا بے جا سختی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ دین اس کو عاجز کر دے گا ۔ وہ نہیں لا سکتا اس میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ یہ دونوں بڑے معروف جلیل القدر صحابہ ہیں ان کو نبی کریم صلی اللہ…

Read More
Shan e Sahaba

صحابہ کی شان

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “لا تسبوا أصحابي فوالذی نفسی بیدہ لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه۔ صدق اللہ العظیم اللہ کا پیغام اور پیغمبر کا واسطہ بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو! اللہ جل جلالہ اپنا پیغام اپنے بندوں تک پیغمبر کے ذریعے پہنچایا کرتے ہیں۔ پیغمبر، اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے درمیان ایک واسطے کی حیثیت رکھتا ہے، جو اللہ کا پیغام وصول کرتا ہے اور اس کے بندوں تک پہنچاتا ہے۔ آگے اللہ تعالی نے اپنے بندوں میں سے کچھ خاص لوگوں کا انتخاب کیا ہوتا ہے اور انہیں یہ سعادت بخشی ہوتی ہے کہ وہ وقت کے پیغمبر کے براہ راست صحبت یافتہ ہوتے ہیں، اس کی براہ راست تربیت میں رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور اللہ کے پیغام اس کے پیغمبر کی زبانی سن کر دنیا کے اطراف تک اور دیگر لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ صحابہ کرام  کا منفرد مقام چنانچہ ہر پیغمبر کو اللہ تبارک و تعالی نے ایسے ہی سعادت مند صحبت یافتہ افراد عطا کیے تھے، اور ان صحبت یافتہ افراد کو اللہ تبارک و تعالی نے دیگر لوگوں سے منفرد مقام عطا کیا تھا۔ چنانچہ ان پر آزمائشیں بھی آتی تھیں، امتحانات بھی آتے تھے۔ یہ اللہ کا اصول ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درجات کے اعتبار سے ان پر آزمائشیں بھیجتا ہے۔ جتنا کوئی بندہ اللہ کے زیادہ قریب ہو اسی قدر سخت آزمائش اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ سب سے سخت امتحانات انبیاء پہ آتے ہیں کیونکہ وہ روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کے سب سے قریب بزرگ شخصیات ہوتی ہیں۔ان کے درجات کے اعتبار سے ان کی آزمائش امتحان بھی سخت ہوتا ہے۔ اسی طریقے سے پیغمبر کی جو براہ راست متبعین اور ان کے شاگرد ہوتے ہیں، وہ دیگر افراد کے مقابلے میں اللہ کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ کائنات کے دیگر لوگ، جو پیغمبر کے بعد آئیں گے یا پیغمبر سے دور رہتے ہیں اور انہیں پیغمبر کی زیارت اور اس کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت نہیں ملی تو ان لوگوں کی بنسبت ان کا درجہ بلند ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کی آزمائش بھی عام لوگوں سے سخت ہوا کرتی ہے۔ مختلف پیغمبروں کے براہ راست صحبت یافتہ حضرات پر آزمائشیں آتی رہیں وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے اور کبھی معاملہ برعکس بھی ہوا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کی قربانیاں تاریخ میں آپ نے پڑھا ہوگا حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے بارے میں کہ یہ حواری حضرت عیسی علیہ السلام کے براہ راست صحبت یافتہ تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا کلام اور ان کا پیغام سنتے تھے، اور دنیا کے اطراف تک پہنچانے کا اہتمام کرتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے پیغام کو دور دور تک پہنچانے کے لیے انہوں نے بڑے امتحانات بھی جھیلے۔ چونکہ وہ وقت ایسا تھا کہ دنیا میں یہودیوں کا غلبہ تھا حضرت عیسی علیہ السلام جس ماحول میں آئے تھے، اس ماحول پر یہودیوں کا غلبہ تھا اور یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن تھے تو ماحول ان کا مخالف تھا۔ مخالفانہ ماحول میں حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے بڑی قربانی دے کر ان کا پیغام دیگر لوگوں تک پہنچایا۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام اس زمین پہ نہ رہے اللہ کے ہاں تشریف لے گئے تو ان کے دین کے باقی رکھنے کی ذمہ داری ان حواریوں کی تھی، لیکن اللہ جل جلالہ کی مشیت کچھ اور تھی۔ عیسائیت میں شامل تحریفات چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دین کی حفاظت ان کے یہ جلیل القدر حواری بھی نہ کر سکے۔ اور پورس نامی ایک شخص حواری کا روپ دھار کے ان میں شامل ہوا اور اس نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات کے اصول، اساس اور بنیادیں تک تبدیل کردی۔آج عیسائیوں کے پاس حضرت عیسی علیہ السلام کے نام سے جو کچھ ہے بہت کم تعلیمات حضرت عیسی علیہ السلام کی ہوں گی، ورنہ اکثر اصول اسی پورس نے تراش رکھے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں کفارے کا عقیدہ ہے اور الوہیت کا عقیدہ ہے اور یہ جو پاپائیت کا نظام ہے یہ تمام تر اصول حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات سے متصادم ہے۔ پورس نے یہ شامل کیے تھے اور عیسائیوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کے جو براہ راست صحبت یافتہ تھے ان کے واقعات معروف ہیں کہ کس قدر مختلف قسم کی وہ حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ فرمائشیں کرتے تھے۔حضرت موسی علیہ السلام اللہ کے حضور دعا کر کے ان کی وہ فرمائشیں پوری کرتے تھے۔ حضرت موسی علیہ السلام کو مصر سے ہجرت کا حکم جب اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو مصر سے نکلنے کا حکم دیا کہ اپنے ان براہ راست صحبت یافتہ حضرات جو بنی اسرائیل قبیلے سے متعلق تھے ان کو لے کے مصر سے نکلے اور جو آپ حضرات کا آبائی علاقہ ہے شام اور فلسطین وہاں جائیں۔ اب شام اور فلسطین میں قوم عمالقہ کا تسلط تھا جو بڑی جابر طاقتور قوم تھی۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر نکلتے ہیں، فرعون تعقب کرتا ہے، اللہ تعالی نے ان کی حفاظت فرمائی اور فرعون کو اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق کیا۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کے نکلے اور جب اللہ کا پیغام انہیں سنایا گیا کہ شام اور فلسطین کے علاقے کو عمالقہ کے تسلط سے آزاد کروانا ہے تو ان کی قوم نے سرکشی کی۔ حضرت موسی علیہ السلام نے قوم عمالقہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے اپنے کچھ قریبی حضرات کو بھیجا کہ وہاں جاؤ اور ان کا جائزہ لو کہ کیا ان کی جنگی تیاری ہے؟ وہ وہاں گئے اور…

Read More
دنیا میں مسلمانوں کی ترقی کا راز

دنیا میں مسلمانوں کی ترقی کا راز

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْۚ-اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کےلیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمھیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمھارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ خیر اور شر کی ازلی کشمکش بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو! دنیا میں ہمیشہ سے خیر اور شر کی قوتیں باہمی متحارب رہی ہیں، ایک دوسرے کے مقابلے میں ہمیشہ سے صف آراء ہیں۔ شر کے لیے عام طور پر مختلف قوتیں  کام کرتی ہیں، گویا کہ شر مختلف قوتوں کے ساتھ طاقتور ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ شر کا فائدہ نقد ہوتا ہے اور شر کی مٹھاس انسان کے سامنے ہوتی ہے تو لوگ عام طور پر شر کی طرف جلدی راغب ہوتے ہیں۔  اس کے مقابلے میں خیر ہے تو خیر کا جو فائدہ ہے وہ انسان کی نظروں سے اوجھل ہے کہ آدمی کی آنکھ بند ہوگی وہ قبر میں اترے گا تو پھر اس کو خیر کے فوائد حاصل ہوں گے۔ نیکیوں کا اجر اللہ کے دربار سے ملے گا تو خیر کا اجر خیر کے فوائد نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں، ادھار ہوتے ہیں، موخر ہوتے ہیں، اسی طریقے سے خیر کی حلاوت بھی عام طور پر نظروں سے غائب ہوتی ہے۔ خیر کی طرف انسان بتکلف مائل ہوتا ہے اسے اپنے نفس کے اوپر جبر کر کے خیر کی طرف آنا پڑتا ہے۔ تو شر اور خیر کے درمیان جب بھی مقابلہ ہوتا ہے تو شر کی طرف لوگوں کا رجحان آسان ہوتا ہے، زیادہ ہوتا ہے اور خیر کی طرف لوگوں کا رجحان کم ہوتا ہے۔ اس لیے عام طور پر شر کو بہت ساری قوتیں دستیاب ہوتی ہیں جن سے وہ کام لے کر اپنے آپ کو دنیا میں غالب رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔  شر کے مقابلے کے لیے خیر کو اپنا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو قوت فراہم کرنی پڑتی ہے۔ اللہ جل جلالہ کا جو حکم ہے وہ سراپہ خیر ہے۔ اللہ کی اطاعت میں ہی انسانوں کے لیے خیر پوشیدہ ہے اور اللہ کی نافرمانی کی جو بھی شکل ہو وہ شر کی ایک عملی صورت ہوتی ہے۔ بعثت رسول ﷺ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا اور انسانیت کی طرف اپنا نمائندہ، اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا اور یہ اعلان ہوا  قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا ترجمہ: (اے رسول ان سے) کہو کہ: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ تو چاہے انسان عرب میں آباد ہو افریقہ میں آباد ہو یورپ میں ہو دنیا کے کسی خطے میں بستا ہو اور کسی زمانے میں آیا ہو اس کے لیےخیرکا دارومدار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سراپہ خیر آپ علیہ الصلاۃ والتسلیمات کی تعلیمات ہیں گویا کہ جو انسان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ مسلمانوں کی صف میں جو انسان کھڑا ہے تو وہ خیر کا نمائندہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جو بھی ہے تو وہ شر کا نمائندہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی میں اللہ تبارک و تعالی نے نجات کا واحد راستہ قرار دیا اور آپ کی سنت پر عمل کو اللہ جل جلالہ نے اپنے تک رسائی کا واحد ذریعہ قرار دیا۔ تو یہ بات واضح ہو گئی کہ اب اگر کسی کو خیر درکار ہے کوئی آدمی یہ چاہتا ہے کہ میں خیر کی صفوں میں کھڑا ہو جاؤں، شر کے لوگوں میں میرا شمار نہ ہو، تو اس کے لیے ایک ہی طریقہ کار ہے،  وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔  میں نے عرض کیا کہ خیر اور شر کی قوتوں میں ہمیشہ سے تقابل رہا ہے، مقابلہ رہا ہے اور یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد بھی چلتا رہا کہ جو آپ کے ساتھ لوگ ہیں، جو خیر کے نمائندے ہیں، جنہیں مسلمان کہا جاتا ہے ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جنہیں مشرک کہا جاتا ہے۔ مسلمان اور غیر مسلم کی شکل میں خیر اور شر کے نمائندوں یا خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان ہمیشہ سے مقابلہ رہا ہے۔ شر کے مقابلے میں خیر کا دفاع: صفات، حکمت اور روحانی طاقت اللہ تبارک و تعالی نے خیر کو یعنی مسلمانوں کو شر کے مقابلے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے کہ شر سے دفاع کس طرح کرنا ہے یا جو مسلمان نہیں ہیں جو غیر مسلم ہیں اللہ کے دین کے دشمن ہیں اللہ جل جلالہ کے نام لیواؤں کے دشمن ہیں تو ان سے اپنے آپ کو بچانا کیسے ہے یا ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟ یہ تعلیمات واضح طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اللہ تبارک و تعالی نے مسلمانوں کو عطا فرمائی ہیں۔ دو طریقوں سے انسان اپنے آپ کو شر سے بچاتا ہے سب سے پہلے انسان اپنے اندر کچھ ایسی صفات پیدا کرتا ہے تاکہ ان صفات کے بل بوتے پر وہ شر کے مقابلے میں صف آراء ہو سکے۔ دشمن کے مقابلے میں طاقت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ طاقت صرف گولی اور بارود کا نام نہیں ہے یا طاقت صرف جسمانی قوت ہی…

Read More
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ عن  ام سلمۃ رضی اللہ عنھا قالت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا یبغض علیا مومن ولا یحبہ منافق (رواہ ابن ابی شیبہ فی المصنف) اللہ تعالیٰ کی محبت اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو!           اللہ جل جلالہ نے ہم سب کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے، اور یوں کہیے کہ اللہ تعالی نے اپنے تک رسائی کا صرف ایک ہی راستہ رکھا ہے، اور وہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل۔ قرآن کریم نے اس کا واضح ارشاد ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  آپ ان کو کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ جل جلالہ سے محبت کرتے ہو، اللہ کی محبت کے دعویدار ہو تو میری اتباع کرو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔گویا کہ اللہ جل جلالہ کی محبت کو حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا راستہ ہے۔جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جتنا عمل کرے اسی قدر وہ اللہ تبارک و تعالی کے قریب ہے۔ سنت کا علم حاصل کرنے کے ذرائع           اب یہ سنت ہمیں کہاں سے پتہ چلے گی؟سنت کا علم ہمیں کہاں سے ہوگا؟سنت کا علم حاصل کرنے کے دو ذرائع ہیں۔ دو ایسے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑے ہیں کہ جن کی بنیاد پر امت کے لیے سنت کا ورثہ چھوڑا گیا یا امت کے لیے سنت حاصل کرنے کا ذریعہ رکھا گیا۔ کتابیں:ایک ذریعہ کتابیں ہیں کہ آپ کتابوں کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کام کرنے کی ترغیب دی یا کون سا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔ یہ آپ کو سنت کی کتابوں میں حدیث کی کتابوں میں ملے گا۔ رجال(شخصیات): دوسرا بڑا ذریعہ رجال ہیں، بندے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے صحابہ کرام کی تربیت کی۔ صحابہ کرام گویا چلتی پھرتی سنت کی تصویر تھے اور صحابہ کرام کے بعد تابعین، تبع تابعین ہیں۔ہر زمانے میں امت میں ایسے صلحا رہے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور ان کی زندگی کو دیکھ کر انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا علم حاصل کر سکتا ہے کہ وہ اس طرح عمل کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل اس طرح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی جماعت کو تیار کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصی تربیت           صحابہ کرام کی جماعت میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ امتیاز ہے وہ بچپن سے لے کر ایک طویل زمانے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت علی نے بچپن گزارا۔           آپ کو معلوم ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے والد، جناب ابو طالب یہ عیالدار بھی تھے اور مالی اعتبار سے تنگ رہا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ مکہ کے رئیس تھے اور لوگوں کی حاجات پوری کرنا رئیس اور سردار اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔لوگوں کی حاجات پوری کرتے کرتے بعض اوقات مقروض ہو جایا کرتے تھے۔ذرائع آمدن کچھ اتنے زیادہ نہیں تھے تو جناب ابو طالب کی تنگدستی کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بچپن سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تربیت میں لیا، تاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اخراجات ان کے والد ماجد پر نہ ہوں، اور کسی حد تک ان کو ان کے لیے مالی تنگدستی کو کم کیا جائے۔ اس مقصد کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی کفالت میں لیا۔ اب یہ حضرت علی کے بچپن کا زمانہ ہے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں آئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اولین اسلام قبول کرنا           آپ 10 سال کے تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا اور آپ پر وحی نازل ہوئی، تو بچوں میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے۔ غار حرا میں جب حضرت جبرائیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کی خوشخبری دی کہ اللہ نے آپ کو نبی بنایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے، ام المومنین حضرت خدیجۃ، آپ کی صاحبزادیاں، حضرت علی اور آپ کے گھر میں آپ کی کفالت میں تھے،حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گار تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق تھے قریبی دوست تھے۔          ان میں سے پہلے کون مسلمان ہوا بعد میں کون مسلمان ہوا، یہ سیرت کے محققین کے لیے بڑا معمہ ہے کہ ترتیب کیسے دی جائے چونکہ یہ سارے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی شمار ہوتے تھے۔آسانی کے لیے پھر یہ ترتیب اپنائی گئی کہ خواتین میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئیں، بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے، بالغوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے۔ تو بالکل ابتدا میں اپنے بچپن کے زمانے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے۔ ابتدائی نماز کی حالت           جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں لوگوں کو مسلمان ہونے والوں کو نماز سکھانا شروع کی، تو مسلمان چھپ کر…

Read More

مظلوم کی نصرت(سیرت طیبہ کی روشنی میں)۔

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ  لَا  تُنۡصَرُوۡنَ صدق اللہ العظیم :ترجمہ اور (مسلمانو) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آپکڑے اور تمہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی قسم کے دوست میسر نہ آئیں، پھر تمہاری کوئی مدد بھی نہ کرے۔ انسان کی خلافت اور صفت عدل بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو  اللہ جل جلالہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور اس کائنات میں اپنی خلافت کے لیے تمام تر مخلوقات میں سے انسان کا انتخاب کیا۔اللہ کی مخلوقات بے شمار ہیں، ان تمام تر مخلوقات میں سے اللہ نے انسان کو اپنی نیابت اور روئے زمین پر اپنی خلافت کے لیے منتخب کیا۔ گویا کہ انسان کی ذمہ داریاں دیگر مخلوقات کے اعتبار سے بہت زیادہ ہیں۔  خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان جہاں روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کی عبادت،  اللہ تبارک و تعالی کی بندگی اور اطاعت کا ذمہ دار ہے، وہاں انسان روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کی مختلف صفات کو ظاہر کرنے کا بھی سبب ہے۔ اللہ جل جلالہ کی مختلف صفات میں سے ایک صفت اللہ تعالی کی صفت عدل ہے۔اللہ تبارک و تعالی عادل ہے،  انسان چونکہ روئے زمین پر اللہ تعالی کا نائب اور  خلیفہ ہے، خلیفہ ہونے کی حیثیت سے اللہ کی صفات کو زمین پر ظاہر کرنے کا سبب ہے۔ جہاں اللہ کی دیگر صفات کو روئے زمین پر ظاہر کرتا ہے، وہاں انسان کو زمین پر اللہ جل جلالہ کی صفت عدل کو بھی ظاہر کرنے کا ذمہ دار ہے۔یعنی، اسے روئے زمین پر عدل سے کام لینا ہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کی صفت عدل کو بھی روئےزمین پر ظاہر کرنے کا سبب یہ انسان ہے۔ عدل کے مختلف تقاضے  عدل کے مختلف تقاضے ہیں۔ عدل کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ کسی کا حق نہ مارا جائے، بلکہ ہر شخص کو اس کا پورا پورا حق دیا جائے۔ انسان اس بات کے لیے کوشش بھی کرے کہ وہ نہ خود کسی کا حق مارے نہ دوسرے کوکسی اور کا حق مارنے دے۔ اسی طرح، عدل کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ انسان اپنی ہر ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے ادا کرے۔ اس کی ایک ذمہ داری عبادت ہے، ایک ذمہ داری اس کی اطاعت اور بندگی ہے،لہذا ان تمام تر ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے ادا کرے۔ بندوں کے ساتھ معاملات جو اللہ نے انسان کے ذمے عائد کیے ہیں انہیں پورے طریقے سے ادا کرے۔ گویا، جس وقت جس انسان کی جہاں جو ذمہ داری ہو اس ذمہ داری کو پوری توانائیصرف کر کے ادا کرنا یہ بھی عدل کا ایک تقاضا ہے۔ عدل اور ظلم کے خاتمے کی ذمہ داری عدل کا ایک بہت بڑا تقاضہ یہ ہے کہ انسان روئے زمین پر ظلم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ہر انسان یہ کوشش کرے کہ روئے زمین پر ظلم کا خاتمہ کرے۔ انفرادی طور پر بھی ہر انسان اس بات کا مکلف ہے اور اجتماعی طور پر پورا انسانی معاشرہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ روئے زمین پر ظلم کے خاتمے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرے۔آج جو میں نے آیتآپ کے سامنے پڑھیوَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا اس میں اللہ تعالی نے یہی حکم دیا ہے ظالموں کی طرف کہیں تمہارا میلان نہ ہو جائے۔ ظالموں کی طرف میلان مت رکھو، ان کی طرف رجحان مت رکھو، فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ ورنہ کیا ہوگا تمہیںآگ چھو لے گی تمہیںآگ کی سزا دی جائے گیوَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ  لَا  تُنۡصَرُوۡنَ اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں ہیں اور پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ گویا کہ اگر انسان روئے زمین پر ظلم کے خاتمے میں اپنا کردار ادا نہ کرے، حالانکہ وہ کر سکتا ہے،  اور ظالموں کی طرف اس کا میلان ہو جائے،ظالم کی طرف اس کا رجحان ہو جائے، تو وہ اللہ جل جلالہ کی نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لہذاروئے زمین پر ظلم کے خاتمے  کے لیے اپنا کردار ادا کرنا یہ اللہ جل جلالہ کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ :عدل اور ظلم کے خاتمے  کی ذمہ داری ذوالقرنین کا واقعہ ہر دور میں جو انسان اس روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کی خلافت کا حق ادا کرتے رہے ہیں،ان کییہ کوشش رہی ہے کہ روئے زمین پر ظلم کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں کرے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ذوالقرنین نامی ایک بادشاہ کا ذکر ہے، اور اللہ نے اس کا ذکر تعریفی انداز میں کیا ہے۔ سورہ کہف میں ذوالقرنین کے سفر کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے،جہاں ان کا سامنا  ایک ایسی قوم سے ہوا جس کا واسطہ یاجوج ماجوج نامی ایسی مخلوق سے پڑھ رہا تھا جو ظالم ہے۔  جس قوم سے اس کی ملاقات ہوئی وہ قوم مظلوم تھی۔ اس کا واسطہیاجوج ماجوج نامی ایک ظالم مخلوق سے پڑا ہوا تھا  جو ان کے ظلم سے تنگ تھے۔ اس مظلوم قوم نے ذوالقرنین سے درخواست کی کہ آپ بادشاہ ہیں، صاحب حیثیت ہیں، لشکر جرار آپ کے ساتھ ہے تو آپ ہمارے لیے کوئیآڑ کھڑی کر دیجیےتاکہ ہمارے اردگرد  جو یاجوج ماجوج نامی ایک ظالم مخلوق آباد ہے اور یہ ہم پہ حملہ اور ہو کر ہمیں تاراج کرتی رہتی ہے،یہاں فساد مچانے کا سبب ہے، کوئیآڑ، کوئی دیوار، کوئی بند بنا دیجیے تاکہ یہ ظالم مخلوق ہم پہ حملہ آور نہ ہو  سکیں  اور ان کے علاقے میں فساد نہ مچا سکیں۔ آپ اگر کہیں توہم آپ کو اس کا معاوضہ بھی دے دیتے ہیں،  ہم آپ کے لیے کوئی ٹیکس یا  خراج جمع کر دیتے ہیں،بسآپ ہمارے لیے اس ظلم سے بچاؤ کا سبب بن جائیے اور یہ اڑ بنا دیجیے۔ چونکہ ذوالقرنین ایک نیک بادشاہ تھا اور نیک ہونے کا اہم تقاضہ یہ…

Read More
منصب امامت اور امت مسلمہ

منصب امامت اور امت مسلمہ

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهيمَ رَبُّه بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ صدق الله مولانا العظیم ترجمہ: اور (وہ وقت یاد رکرو) جب ابراہیم کو ان کے پروردگار نے کئی باتوں سے آزمایا، اور انہوں نے وہ ساری باتیں کیں، اللہ نے ا(ان سے)کہا: میں تمھیں تمام انسانوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔  ابراہیم نے پوچھا: اور میری اولاد میں سے؟ اللہ نے فرمایا میرا(یہ ) عہد ظالموں کو شامل  نہیں ہے۔ بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو ! دنیا میں یا اس روئے زمین پر انسان اور اس کے خالق کے تعلق ہو مذہب کہا جاتا ہے۔ یعنی مذہب کا اگر آسان انداز میں آپ تعارف جاننا چاہیں۔ ویسے تو اس کی فلسفیانہ تعریفیں بھی ہیں، پیچیدگیاں ہیں، اس میں پیچیدہ لمبے چوڑے مباحث ہیں لیکن اگر آسان انداز میں ایک جملے میں کوئی مذہب کو سمجھنا چاہے تو یوں کہہ سکتا ہے کہ روئے زمین پر اللہ تعالی اور انسان کے درمیان تعلق کا جو واحد واسطہ ہے وہ مذہب برحق یا دین برحق کی اتباع ہے۔ گویا یہ ایک ایسا ذریعہ ہے کہ اس کی اتباع کر کے اس کے راستے پر چل کر انسان اپنے خالق کو حاصل کر سکتا ہے۔ مذہب کی تاریخ اس روئے زمین پر اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ انسان کی تاریخ پرانی ہے۔ بلکہ اگر کوئی یہ کہنا چاہے تو کہہ سکتا ہے کہ انسان کی تاریخ سے پہلے بھی اس کائنات میں مذہب موجود تھا۔ جب فرشتے اللہ تبارک و تعالی کے عبادت کرتے تھے۔اپنے خالق کی رضامندی حاصل کرتے تھے۔  اس کائنات میں انسان نہیں تھا لیکن مذہب موجود تھا ۔ جب پہلا انسان اس روئے زمین پر آیا تو اس روئے زمین پر اپنے ساتھ مذہب کو لے کر آیا ۔اللہ تبارک و تعالی کے تعارف کی ذمہ داری اور منصب لے کر زمین پر وارد ہوا اور جوں جوں انسانیت آگے ترقی کرتی گئی، مذہب میں بھی ارتقا آتا گیا۔ اللہ تبارک و تعالی اپنے احکامات میں تبدیلی کرتا رہا ترقی لاتا رہا یہاں تک کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے تو اللہ تبارک و تعالی نے دین کو بھی مکمل کر دیا ۔ معلوم ہوا کہ جتنی انسانی تاریخ پرانی یا قدیم ہے، اسی قدر روئے زمین پر مذہب کی تاریخ بھی قدیم ہے۔ مذہب پر عمل کرنے میں انسان کو کچھ مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عشق کی وادی ہے اور اس کا قدم قدم پرخار ہوا کرتا ہے ۔ قرآن کریم میں اس کو گھاٹی سے تعبیر کیا گیا  فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ پھر وہ اس گھاٹی میں داخل نہیں ہوسکا۔ اور تمھیں کیا پتہ کہ وہ گھاٹی کیاہے؟ کہ تمہیں کیا معلوم کہ یہ گھاٹی کیا ہے؟ یعنی دین اسلام پر عمل کرنا اور دین کے احکامات پر عمل پیرا ہونا اس کو ایک گھاٹی سے تعبیر کیا گیا۔ گھاٹی پہاڑوں کے درمیان جو ذرا دشوار گزار راستہ ہوتا ہے اسے گھاٹی کہا جاتا ہے۔ جس سے گزرنا عام طور پر آسان نہیں ہوتا تو اس آیت میں بھی اللہ تبارک و تعالی نے مذہب پر عمل کرنے کو گھاٹی سے تعبیر کیا کہ کچھ لوگ تو یہ گھاٹیاں عبور کر جاتے ہیں اور کچھ لوگ درمیان میں ہی فیل ہو جاتے ہیں۔ کچھ شروع ہی سے ہمت ہار جاتے ہیں۔ یہی صورتحال مذہب کی ہے کہ کچھ لوگ اس کی حقیقت کو پا جاتے ہیں، کچھ درمیان میں بھٹک جاتے ہیں اور کچھ شروع ہی سے مذہب کے راستے پر قدم رکھنے سے کتراتے ہیں۔ تو مذہب پر عمل کرنے میں کچھ پیچیدگیاں ہوتی ہیں کچھ مشکلات برداشت کرنی ہوتی ہیں کچھ آزمائشیں ہوتی ہیں۔ جب آدمی ان آزمائشوں سے گزر جاتا ہے تو اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ ایک انعام تو جنت کا ہے جو آخرت میں ملے گا۔ اس سے ہٹ کر دنیا میں اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے مختلف انعامات انسان کو دیے جاتے ہیں۔ جب وہ اللہ تعالی کی اطاعت کرتا ہے اور صحیح مذہب کے راستے پر چلتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام انبیاء کرام کے والد کہلاتے ہیں۔ ابو الانبیاء ان کو کہا جاتا ہے ان کے بعد آنے والے جتنے بھی انبیاء تھے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ ان کے اسوہ حسنہ میں جہاں انسان کے لیے اور بہت سارے درس کے راستے ہیں سبق کے راستے ہیں وہاں مذہب کی اہمیت کو اگر کوئی سمجھنا چاہے ، اس کے راستے میں آنے والی مشکلات کو اگر کوئی دیکھنا چاہے اور ان مشکلات کو عبور کر کے اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے ملنے والے انعامات کو اگر کوئی پرکھنا چاہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ حسنہ اور ان کی سیرت کو پڑھ کر ان تمام سوالات کے جوابات حاصل کر سکتا ہے۔ کس طریقے سے انہوں نے اللہ  کی اطاعت کی اور اطاعت کے اس راستے میں مختلف امتحانات سے گزرنا پڑا۔ آزمائشیں آئیں اور جب ان آزمائشوں سے وہ گزر گئے کامیاب ہوئے تو اب اللہ کی جانب سے انہیں انعام ملا۔  وہ کس نوعیت کا تھا تو میں مختصرا عرض کیے دیتا ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جس علاقے میں تشریف لائے تھے ،مورخین اسے عرب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ آج جہاں بغداد ہے عراق میں اس سے کوئی 60،  70 کلومیٹر کے فاصلے پر وہ علاقے ہیں۔ جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے تھے۔ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے تفہیم القران میں اس شہر کی کچھ تفصیلات لکھی ہیں کہ یہ اس زمانے کا بڑا متمدن اور مہذب شہر تھا ترقی یافتہ کہلاتا تھا۔ اڑھائی لاکھ سے پانچ لاکھ تک اس کی آبادی تھی۔ بڑے تجارت تجارت کرنے والے لوگ تھے۔ چونکہ مذہب سے دور تھے صحیح راستے سے ہٹے ہوئے تھے تو تجارت کی جو بگڑی ہوئی شکلیں…

Read More
مسئلہ کشمیر اخوت اور بھاءی چارگی

مسئلہ کشمیر اخوت اور بھاءی چارگی

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ وَالصّلَاةُ وَالسّلامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمّدوعَلى الِه وَاَصْحَابِه اَجْمَعِيْنَ وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاحْسَانٍ اِلَى يَومِ الدِيْنِ امَّا بَعْد!  قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الا كل شيء من امر الجاهليه موضوع تحت قدمی بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو!  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا تھا ” الا كل شيء من امر الجاهليه موضوع تحت قدمی کہ یاد رکھو جاہلیت کے زمانے کے تمام معاملات تمام جاہلی رسم میں آج میرے قدموں تلے ہیں”  گویا اس جملے کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام جاہلیت کے رسوم کے خاتمے کا اعلان فرمایا تھا۔ یہ جاہلی رسمیں یا جاہلی قدریں کیا تھی؟ ان میں یہ طبقاتی امتیاز بھی تھا، نسلی بنیادوں پر فخر بھی تھا، فحاشی بھی تھی، عریانی بھی تھی، مختلف رسمیں بھی تھیں، جو زمانہ جاہلیت میں لوگوں کے درمیان رائج تھیں، جو اسلام سے متصادم تھیں۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر ان کے خاتمے کا اعلان فرمایاان رسموں میں سے ایک رسم یہ بھی تھی کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ زبانی معاہدات کے ذریعے رشتے قائم کرتے تھے۔ زبانی کلامی رشتے ان کے درمیان قائم ہوتے تھے۔ وہ رشتے پھر برقرار رہتے تھے اور بعض اوقات ان میں سے ایک کے انتقال کی صورت میں ان کے درمیان وراثت بھی چلتی تھی۔ اگر کسی نے کسی کو کہہ دیا کہ تم میرے بھائی ہو تو وہ اس کا بھائی شمار ہوتا تھا۔ اگر ایک آدمی نے دوسرے کو اپنا بیٹا بنا لیا تو عرب اس کو اس کا حقیقی بیٹے کا سٹیٹس دیتے تھے۔ وہ اس کا والد تصور ہوتا تھا، وہی اس کا کفیل ہوتا تھا، ذمہ دار ہوتا تھا اور اس کی موت کے بعد اس بیٹے کو بھی وراثت میں شریک تصور کیا جاتا تھا۔ تو یہ زبانی رشتے تھے جو زبان کی بنیاد پر وہ قائم کرتے تھے۔ کسی کو بھائی بنا لیا کسی کو بیٹا بنا لیا۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اسی رواج کے مطابق اپنا بیٹا بنایا تھا یہ بکتے بکتے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا کے پاس آئے تھے۔ حضرت خدیجہ نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے لیے آپ علیہ السلام کے سپرد کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ بڑا لگاؤ اور بڑی انسیت تھی۔حضرت  زید بن حارثہ کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انتہائی درجے کے انسیت تھی۔ یہاں تک کہ ان کے والدین ان کو تلاش کرتے کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور درخواست کی کہ آپ ان کو ہمارے سپرد کر دیں۔ اگر کچھ لینا بھی ہے،آپ کے ان پہ اخراجات ہوئے ہوں تو ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اس کو بلا لو اور اس سے پوچھ لو اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہتا ہے تو مجھے کسی چیز کی طلب نہیں ہے اس کو لے جاؤ۔حضرت زید بن حارثہ کو بلایا گیا تو انہوں نے اپنے والدین کی پیشکش کو رد کیا اور بنسبت والدین کے ساتھ جانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے کو اختیار کیا۔جب والدین نے ان کا اتنا لگاؤ دیکھا تو وہ مطمئن چلے گئے کہ ہمارا بیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ساتھ اس حد تک لگاؤ تھا کہ انہیں اپنا بیٹا بنایا تھا۔ اور عام معاشرتی چلن کی وجہ سے معاشرے میں لوگ انہیں زید بن محمد کہنا شروع ہو گئے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت بھی ان کی وجہ سے ابو زید پڑ گئی تھی۔ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اپنے خاندان کی ایک نامور خاتون حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا سے کیا۔تو اللہ تبارک و تعالی نے اس رسم کو ختم کرنا تھا کہ یہ جو زبانی کلامی معاہدوں کی وجہ سے یا لوگوں کی باتوں کی وجہ سے جو رشتے وجود میں آتے ہیں تو ان رشتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ قرآن کریم کی آیت بھی نازل ہوئی اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ کہ یہ جو تمہارے منہ بولے بیٹے ہیں ان کو اپنے حقیقی ابا ان کے جو حقیقی والد ہیں ان کی طرف نسبت کر کے ان کو پکارا کرو۔ کہ فلاں فلاں کا حقیقی بیٹا ہے هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ اللہ تبارک و تعالی کے ہاں یہی بات زیادہ انصاف اور زیادہ عدل والی ہے چنانچہ حضرت زیدبن حارثہ کو لوگ پھر دوبارہ زید بن حارثہ کہنا شروع ہو گئے اور وہ جو درمیان میں انہیں زید بن محمد کہنے کا ایک رواج چلا تھا تو صحابہ کرام نے اس کو ترک کیا۔  عربوں میں ایک اور رسم تھی کہ چونکہ منہ بولے بیٹے کو وہ حقیقی بیٹے کی طرح سمجھتے تھے اور جو منہ بولے بیٹے کی بیوی ہوتی تھی اسے بھی حقیقی بہو کی طرح تصور کیا جاتا تھا۔ان کے معاشرے میں یہ بڑی معیوب بات تھی کہ اگر وہ منہ بولا بیٹا کسی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو بعد میں اس کا جو منہ بولا والد تھا وہ اس کے ساتھ شادی نہیں کر سکتا تھا۔ یہ ان کے ہاں بڑا معیوب سمجھا جاتا تھا کہ اگر کوئی اپنے منہ بولے بیٹے کی مطلقہ بیوی سے شادی کر لے۔  اللہ جل جلالہ نے اس رسم کو ختم کرنا تھا اور رسم کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کیا چنانچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہا کے درمیان نبھاؤ نہ ہو سکا۔ دونوں میں فرق تھا۔ بہرحال مختلف وجوہات تھیں جن کی وجہ سے نوبت طلاق تک جا پہنچی۔ اب جب زینب بنت حجش کو طلاق ہوئی تو اللہ تبارک و تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ زینب بنت حجش کے ساتھ نکاح فرمائیں۔ شروع میں…

Read More
Muslims

دور حاضر کا مسلمان

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ وَالصّلَاةُ وَالسّلامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمّدوعَلى الِه وَاَصْحَابِه اَجْمَعِيْنَ وَعَلَى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاحْسَانٍ اِلَى يَومِ الدِيْنِ امَّا بَعْد!  فَاَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَیْطَانِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْم یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ صَدَقَ اللهُ الْعَظِيْمُ ترجمہ آیت: اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری  مدد کرے گا، اور تمھارے قدم جما دے گا۔ بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو! مسلمان اللہ تبارک و تعالی پر ایمان رکھتا ہے۔ اس کی وحدانیت کا دم بھرتا ہے۔ اس کو معبود مانتا ہے۔ اس کے سامنے اپنا ماتھا ٹکاتا ہے۔ صرف اسی کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ اس کی اطاعت کرتا ہے اور بدلے میں اللہ تبارک و تعالی اس کی مدد کرتا ہے۔ یہ ہر دور میں ہوتا آیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ہر زمانے میں اہل ایمان کی مدد اور نصرت فرمائی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آج مسلمان اتنا ذلیل کیوں ہے؟ آج کے دور کو اگر ہم دیکھیں تو مسلمانوں کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ تعداد کے اعتبار سے اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ دنیا کی چھ ارب کی آبادی میں سے ڈیڑھ ارب کے قریب مسلمان ہیں۔ گویا کہ دنیا کا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے اور اللہ تبارک و تعالی نے 57 مسلمان ممالک کو ہر اعتبار سے نوازا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مسلمان غیر مسلم طاقتوں کا محتاج رہتا ہے۔ بطور مثال کے آپ پاکستان کو لے لیجیے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس وطن کو افرادی اور دفاعی اعتبار سے طاقت بخشی ہے۔ معاشی طور پر اس کا دارومدار غیر مسلم اقوام پر ہے۔ عرب ممالک مشرق وسطی کے ممالک کو دیکھیے، معاشی طور پر وہ مضبوط ہیں لیکن دفاعی اعتبار سے کمزور ہیں۔ وہ غیر مسلم طاقتوں کے سامنے سر بسجود رہتے ہیں۔ دنیا میں ایک بھی ایسا مسلمان ملک نہیں ہے جو غیر مسلم طاقتوں کی دست اندازی سے محفوظ ہو اور سر اٹھا کر جینے جینے کا سلیقہ رکھتا ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ اللہ تعالی کی مدد کن کے ساتھ ہے؟ اللہ تعالی نے ہر دور میں اہل ایمان کی مدد کی ہے۔ مدد کا وعدہ بھی کیا ہے تو اس دور میں تو اہل ایمان یہی مسلمان ہیں. یہی 57 مسلمان ممالک ہیں اور ان کے اندر بسنے والے اہل ایمان ہیں تو ان کی مدد کیوں نہیں کی جاتی؟ کیا اللہ تعالی مسلمانوں کے مقابلے میں غیر مسلم طاقتوں کی مدد کرتا ہے یا معاملہ کیا ہے؟ تو اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے. اللہ تعالی مدد ضرور کرتا ہے۔ ہر دور میں ایمان والوں کی اور جگہ جگہ یقین بھی دلاتا ہے کہ بَلِ  اللّٰهُ  مَوْلٰىكُمْۚ وَ  هُوَ  خَیْرُ  النّٰصِرِیْنَ ترجمہ:(یہ لوگ تمھارے خیر خواہ نہیں) بلکہ اللہ تمھارا حامی و ناصر ہے، او ر وہ بہترین مددگار ہے۔ اللہ تعالی تمہارا کارساز ہے کہ تم اہل ایمان ہو تم نے اللہ پر ایمان رکھا ہے، تو بدلے میں اللہ تمہارے معاملات نمٹائے گا تمہارا کارساز ہوگا تمہیں مشکلات سے نکالے گا۔ اور وہ سب سے بہترین مددگار ہے کہ اس کی مدد سے آگے کسی کی مدد نہیں ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا اِنْ  یَّنْصُرْكُمُ  اللّٰهُ  فَلَا  غَالِبَ  لَكُمْۚ ترجمہ: اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کو ءی  تم پر غالب آنے والا نہیں۔ کہ اگر اللہ تعالی تمہاری مدد کرے تو کوئی طاقت تمہارے اوپر غلبہ اختیار نہیں کر سکتی، تم مغلوب نہیں ہو سکتے۔ جب اللہ تعالی تمہاری مدد کرے گا اور اسی طریقے سے مختلف روایات میں بھی اس چیز کا ثبوت ملتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی اہل ایمان کی مدد کرتا ہے اور کرتا رہا ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ اس مدد کے کچھ ضوابط ہیں اللہ تبارک و تعالی مسلمانوں کی مدد ضرور کرتا ہے لیکن کچھ ضوابط کو سامنے رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ اللہ کا ارشاد ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَنْصُرُوا اللّٰهَ یَنْصُرْكُمْ وَ یُثَبِّتْ اَقْدَامَكُمْ ترجمہ آیت: اے ایمان والو! اگر تم اللہ (کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری  مدد کرے گا، اور تمھارے قدم جما دے گا۔  اب اس میں ایک ضابطہ بتلا دیا کہ اللہ تعالی کی مدد اسی وقت آئے گی جب پہلے تم اللہ کی مدد کرو گے۔ اب بندہ اللہ کی مدد کیسے کرے؟ اللہ کی مدد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کی مدد کرے اللہ کے دین کی خدمت کرے اور اللہ تبارک  تعالیٰ کی مکمل اطاعت کرے۔ اس کے دین کے بول بالا کے لیے اپنی تمام تر جدوجہد صرف کرے۔ یہ اللہ کی مدد کرنے کامطلب ہے ۔ جب اہل ایمان اس طریقے سے اللہ تبارک و تعالی کی مدد کرتے ہیں تو بدلے میں اللہ تبارک و تعالی ان کی مدد کرتا ہے اور دنیا میں انہیں کامیابی اور سرفرازی عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالی کی مدد کے حصول کے کچھ ضوابط ہیں۔ سب سے پہلا ضابطہ مومن بننا ہے کہ صحیح طریقے سے ایمان لایا جائے۔  میرے اور آپ کے لیے ایمان وہ معتبر ہے جس طرح صحابہ کرام کا ایمان تھا۔فرمایا کہ اَمِنُوا كَمَا اَمَنَ النَّاسُ مجھے اور آپ کو حکم ہے کہ اے لوگو! ایمان لاؤ اس طریقے سے جیسےیہ لوگ ایمان لائے۔ اور پھر فرماتے ہیں کہ لوگوں سے مراد صحابہ کرام ہیں۔گویا کہ صحابہ کرام میرے اور آپ کے لیے ایمان اور حق کا معیار بنائے گئے ہیں کہ میں اور آپ ایمان لائیں گے اسی طریقے سے جیسے صحابہ ایمان لائے۔ جیسے ان کا اللہ پہ توکل تھا، جیسے ان کا بھروسہ تھا، جیسے ان کی ایمانی طاقت تھی، جیسے ان کے اندر دینی حمیت اور غیرت تھی وہ تمام چیزیں جب ہم اپنے اندر پیدا کریں گے۔ تو پھر ہم صحیح اہل ایمان کہلائیں گے اور اللہ تبارک و تعالی کی مدد کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی لازمی شرط کو ہم پورا کریں۔  چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ترجمہ: بے شک اللہ ان لوگوں کا دفاع کرے گا جو ایمان لے آءے ہیں۔…

Read More

نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارکہ

نبی کریم ﷺ کا حلیہ مبارکہ اللہ تعالیٰ نےرسول اللہﷺ کوبے مثال حسن و جمال عطا فرمایا تھا۔صحابہ کرام نے اپنے انداز سے رسول اللہﷺ کا جمال بیان کیا ہے۔حضرت جابرکہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر حسن و جمال دنیا میں نہیں دیکھا۔آپﷺ کے سامنے چاند کا حسن و جمال بھی ماند پڑجاتا تھا۔حضرت علی کا بیان ہے کہ ہم نے ایسی پاک صورت پہلے کبھی دیکھی،نہ آئندہ دیکھیں گے۔یہاں یہ پیش نظر رہے کہ صحابہ کرامj کے ہاں مبالغہ آرائی نہیں تھی۔نہایت صاف گو تھے۔ حقائق پر مبنی گفتگو کرتے تھے۔ اس لئے ان بیانات میں شاعری و مبالغہ آرائی نہیں، حقیقت کا بیان ہے۔اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حسن و جمال ہی ایسا عطا فرمایا تھا۔ کہ جو بھی دیکھتا، مبہوت رہ جاتا۔ ملا علی قاری نے امام قرطبی سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریمﷺ کا مکمل جمال دنیا میں ظاہر نہیں فرمایا۔اگر آپﷺ کا مکمل جمال ظاہر کردیا جاتا۔تو کسی میں آپﷺ کی طرف دیکھنے کی صلاحیت نہ ہوتی۔ ابن حجر نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام کو چہرے اور آواز کا حسن عطا فرمایا تھا۔اور تمہارے نبی ﷺ چہرہ انور کے جمال اور ابن حجر نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام کو چہرے اور آواز کا حسن عطا فرمایا تھا۔اور تمہارے نبی ﷺ چہرہ انور کے جمال اور آواز کی خوبصورتی میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ جمال محمدی کو حضرت عائشہ سے بہتر کون بیان کرسکتا ہے۔ام المومنین فرماتی ہیں۔ لَوْ سَمِعُوا فِي مِصْرَ أَوْصَافَ خَدِّهِ لَمَا بَذَلُوا فِي سَوْمِ يُوسُفَ مِنْ نَقْدِ لَوَّامِيْ زلِيخَا لَوْ رَأَيْنَ جَبِينَهُ لَآثَرْنَ بِالْقَطْعِ الْقُلُوبَ عَلَى الْأَيْدِي ترجمہ:’’ مصر والے اگر میرے محبوب کے رخسار مبارک کے اوصاف سُن لیتے تو حضرت یوسف کی قیمتیں لگانا بھول جاتے اور زلیخا کو ملامت کرنے والی عورتیں اگر میرے محبوب کی جبین مبارک کو دیکھ لیتیں تو ہاتھوں کے بجائے اپنے دل کاٹنے کو ترجیح دیتی۔‘‘ رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جمال عطا فرمایا تھا۔ جمال کو حسن پر برتری حاصل ہوتی ہے۔حسن رنگ کی سفیدی، جاذبیت اور ظاہری نقشے کے خوبصورت ہونے کو کہتے ہیں۔جبکہ جمال مجموعہ قد کے تناسب،اعضاء کے جوڑ بند کے درست ہونے اور اپنی جگہ موزوں ہونے کو کہتے ہیں۔گویا جمال جسم کے ہر حصے کے بے مثال ہونے سے عبارت ہے۔کہ ہر ہر عضو اتنا کامل ہو۔کہ اس سے آگے کمال کا تصور تک نہ ہو۔نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایساجمال عطا فرمایا تھا۔جس میں کائنات کا کوئی فرد آپﷺ کا شریک نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام جب آپﷺ کا سراپا بیان کرتے ہیں۔تو ایک ایک عضو مبارک کی تعریف کرتے ہیں۔کہ بال مبارک ہلکا سا گھنگھریالا پن لئے ہوئےاوربے مثال تھے۔دندان مبارک آبدار موتیوں کی مانند تھے۔سفیدملیح چہرے کے ساتھ چمکدار دانت یوں لگتے جیسے یاقوت کے صندوق میں در نایاب ہوں۔آنکھیں بڑی ، سیاہ اور سرمگیں تھیں۔جن میں سرخ ڈورے تیرتے دکھائی دیتے۔ بصارت اس قدر طاقتور کہ آنحضرتﷺ اوج ثریا پر ستاروں کے جھرمٹ میں گیارہ ستاروںکو صاف اور واضح دیکھ لیتے۔ پیشانی مبارک کشادہ تھی۔سر مبارک بڑا تھا۔ ناک لمبی اور خمیدہ تھی۔ سینہ اور پیٹ برابر تھے۔سینہ مبارک کے اوپر والے حصے اور کندھوں پر چند بالوں کے سوابدن مبارک پر بال نہیں تھے۔پاؤں مبارک کے تلوے اتنے بھرپور اور ہموار تھے کہ زمین پر پاؤں کے نشانات میں یکسانیت ہوتی تھی۔ جسم مبارک کا بالائی حصہ لمبا تھا۔جب محفل میں تشریف فرما ہوتے تو سب سے نمایاں نظر آتے۔حضرت خدیجہ کے صاحبزادے ہند بن ابی ہالہ کے مطابق آنحضرتﷺ چودہویں کے چاند سے زیادہ حسین و جمیل تھے۔ حضرت ام مَعبد نےنہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں رسول اللہﷺ کا حلیہ بیان کیا ہے۔جس کا ترجمہ صفی الرحمٰن مبارکپوری کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے: ’’چمکتا رنگ،تابناک چہرہ،خوبصورت ساخت،نہ توندلے پن کا عیب نہ گنجے پن کی خامی۔جمال جہاں تاب کے ساتھ ڈھلا ہوا پیکر،سرمگیں آنکھیں،لمبی پلکیں، بھاری آواز،لمبی گردن،سفید و سیاہ آنکھیں،باریک اور باہم ملے ہوئےابرو، چمکدار کالے بال۔ خاموش ہوں تو باوقار، گفتگو کریں تو پرکشش۔ دور سے دیکھنے میں سب سے تابناک و پُرجمال، قریب سے سب سے زیادہ خوبصورت اور شیریں۔گفتگو میں چاشنی،بات واضح اور دو ٹوک،نہ مختصر نہ فضول،انداز ایسا کہ گویا لڑی سے موتی جھڑ رہے ہیں۔درمیانہ قد، نہ ناٹا کہ نگاہ میں نہ جچے،نہ لمبا کہ ناگوار لگے،دو شاخوں کے درمیان ایسی شاخ کی طرح ہیں جو سب سے زیادہ تازہ و خوش منظر ہے۔رفقاء آپ کے اردگرد حلقہ بنائے ہوئے،کچھ فرمائیں تو توجہ سے سنتے ہیں،کوئی حکم دیں تو لپک کے بجا لاتے ہیں، مطاع و مکرم،نہ ترش رو نہ لغو گو۔‘‘ ذیل میں رسول اللہﷺ کے حلیہ مبارکہ پر مشتمل شمائل ترمذی کی کچھ روایات درج کی جاتی ہیں۔ … عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺ لَيْسَ بِالطَّوِيلِ الْبَائِنِ، وَلَا بِالْقَصِيرِ، وَلَا بِالْأَبْيَضِ الْأَمْهَقِ، وَلَا بِالْآدَمِ، وَلَا بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ، وَلَا بِالسَّبْطِ، بَعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلٰى رَأْسِ أَرْبَعِينَ سَنَةً، فَأَقَامَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ، وَ بِالْمَدِينَةِ عَشْرَ سِنِينَ، وَتَوَفَّاهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَأْسِ سِتِّينَ سَنَةً، وَلَيْسَ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ عِشْرُونَ شَعْرَةً بَيْضَاءَ۔ ترجمہ:’’حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضوراکرم ﷺ نہ بہت لمبے قد کے تھے نہ پستہ قد(جس کو ٹھگنا کہتے ہیں ،بلکہ آپﷺ کا قد مبارک درمیانہ تھا) اور نیز رنگ کے اعتبار سے نہ بالکل سفید تھے چونے کی طرح نہ بالکل گندم گوں کہ سانولہ پن آجائے (بلکہ چودھویں رات کے چاند سے زیادہ روشن پرنور اور ملاحت لئے ہوئے تھے)حضوراکرم ﷺ کے بال نہ بالکل پیچیدہ تھے اور نہ سیدھے تھے (بلکہ ہلکی سی پیچیدگی اور گھنگریالا پن تھا) چالیس سال کی عمر ہونے پر اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو نبی بنایا، اور پھر دس برس مکہ مکرمہ میں رہے ،اس مدت کے درمیان میں حضور اقدس ﷺ پر وحی بھی نازل ہوتی رہی،اس کے بعد دس سال مدینہ منورہ میں قیام فرمایا اور پھر ساٹھ سال کی عمر میں حضور اقدسﷺ نے وصال فرمایا،اس وقت آپ ﷺ کے داڑھی اور سر مبارک میں بیس بال بھی سفید نہ تھے ۔‘‘ ملاحظہ: اس روایت میں رسول اللہﷺ کی عمر شریف ساٹھ برس اوربعثت کے بعد مکہ مکرمہ میں آنحضرتﷺ کا قیام دس برس بتایا…

Read More

نبی کریم ﷺ کی گفتگو کے انداز

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا، قَالَتْ:’’مَا كَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ  عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْرُدُ سَرْدَكُمْ هَذَا، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ يُبَيِّنُهُ، فَصْلٌ، يَحْفَظُهُ مَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ۔‘‘ (ترمذی،محمد بن عیسی الترمذی، م:279ھ،سنن الترمذی،رقم الحدیث:5/3639، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر،ط: الثانية، 1395 ھـ) مفہوم حدیث: حضرت عائشہ کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ تم لوگوں کی طرح مسلسل تیزی کے ساتھ گفتگو نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ آپ ﷺ کی گفتگو میں ہر لفظ اس طرح جدا جدا ہو ا کرتا کہ سننے والا شخص اس کو یاد بھی کرسکتا تھا۔ تشریح: نبی کریم ﷺ کی گفتگو کا انداز اس قدر دلکش تھا کہ مخاطب اس کو سنتے ہی اپنے د ل میں بسا لیا کرتا ۔آپ ﷺ کی گفتگو نہ اس قدر طویل ہوتی کہ سننے والا اُکتا جائے ،اور نہ اس قدر مختصر ہوتی کہ سننے والے کو سمجھ ہی نہ آئے۔نبی ﷺ نہایت اعتدال اور توازن کے ساتھ کلام فرماتے تھے۔ چنانچہ اس روایت میں آپ نے سنا کہ حضرت عائشہ k نبی کریمﷺ کا طرز تکلم بیان فرما رہی ہیں۔کہ نبی کریم ﷺ کی گفتگو کے انداز میں تیزی نہیں تھی۔بلکہ آپ ﷺ جب بات چیت فرماتے تو ہر لفظ جدا جدا کر کے ادا فرماتے۔یہاں تک کہ سننے والا اگر چاہتا تو اس کو سن کر یاد بھی کرلیتا۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ بعض اوقات مخاطب کی ضرورت کے لئے ایک بات کوتین با ر بھی دہرایا کرتے۔(ترمذی،3640) حضرت عبداللہ بن عباس h نبی کریم ﷺ کے کلام کی خوبصورتی کو یوں بیان فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ گفتگو فرماتے، تو ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے نبی کریم ﷺ کے دندان مبارک سے نور پھوٹ رہا ہو۔(سنن الدارمی،59) یہ ہمارا بنیادی فرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک عادت کو پڑھیں اور پھر اس پر عمل کریں، یہ ایمان کا تقاضا ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے اور آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Read More