نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے دنیا کی معاشرتی حالت
انسان زندگی بسر کرنے کے لئے جس طرح ہوا، پانی اور غذا کا محتاج ہے، اس سے زیادہ اسے انبیاءؑ کی ضرورت ہے، کیونکہ زندگی گزارنے کی ان ظاہری سہولیات کی قدر و قیمت ختم ہو کر رہ جائے گی اگر زندگی گزارنے کا طریقہ معلوم نہ ہو۔ اسی طریقہ کی تعلیم کے لئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کا سلسلہ شروع فرمایا۔ اس روئے زمین کا پہلا انسان ہی اللہ تعالیٰ کا پڑھایا ہوا، مہذب اور پیغمبر تھا۔ نسل انسانی کا آغاز تہذیب اور علم سے ہوا۔ ارشادِ الٰہی ہے:
وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَةِ فَقَالَ اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ (البقرۃ: 31)
’’اور آدم کو (اللہ نے) سارے نام سکھا دیئے، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور (ان سے) کہا اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتاؤ۔‘‘
حضرت آدمؑ کے بعد انبیاء کرام کا سلسلہ چلتا رہا۔ روئے زمین کے مختلف خطوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا۔
بعثت انبیاء کے بارے میں ایک غلط فہمی:
آج کل اعتراض کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام صرف عرب اور شام کے چھوٹے سے خطے میں بھیجے۔ یہ غلط فہمی ہے۔ قرآن کریم کا واضح اعلان ہے:
وَاِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ۔ (الفاطر: 24)
’’اور کوئی امت ایسی نہیں ہے جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ آیا ہو۔‘‘
وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ۔ (الشعراء: 208)
’’اور ہم نے کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ (پہلے) اس کے لئے خبردار کرنے والے موجود تھے۔‘‘
وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهٖ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ۔ (ابراہیم: 4)
’’اور ہم نے جب بھی کوئی رسول بھیجا، خود اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان کے سامنے حق کو اچھی طرح واضح کر سکے۔‘‘
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْہُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَيْكَ وَمِنْہُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَيْكَ۔ (غافر: 78)
’’اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر بھیجے ہیں۔ ان میں سے کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں بتا دیئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے واقعات ہم نے تمہیں نہیں بتائے۔‘‘
قرآن کریم کے یہ بیانات واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف انبیاء بھیجے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی تاریخ محفوظ نہ رہ سکی۔ قرآن کریم میں پچیس انبیاء کرام کا تذکرہ ہے، جن کی بعثت ان اقوام میں ہوئی جو عرب کے قرب و جوار میں بستی تھیں۔ جن سے اہلِ عرب واقف تھے۔ ان کے واقعات میں عربوں کے لئے عبرت تھی۔ قرآن و حدیث کا موضوع تاریخ نہیں بلکہ نسل انسانی کی ہدایت ہے۔
انبیاء کرام کی بعثت کا مقصد نسل انسانی کی ہدایت ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کے بعد طویل عرصہ تک دنیا میں پیغمبر تشریف نہیں لائے۔ دوسری طرف دینِ عیسائیت کے علمبرداروں نے بہت جلد حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات کا حلیہ بگاڑ دیا۔ چھٹی صدی عیسوی تاریخ انسانی کا سب سے تاریک دور تھا۔ دنیا معاشرتی بدنظمی، معاشی ناہمواری اور جنسی بحران کے دلدل میں پھنس چکی تھی۔ کسی ایسے مسیحا کا وجود نہیں تھا جو گرتی ہوئی انسانیت کو سہارا دے سکے۔
دنیا میں اس وقت دو طاقتور اقوام کا وجود تھا۔ ذیل میں ان کی معاشرتی، اخلاقی اور مذہبی صورتحال کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔
