اذان کے بعد دعا کی اہمیت

اذان کے بعد دعا کی اہمیت

اذان کے بعد دعا کی اہمیت

(16) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
“مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اَللّٰهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ القَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.”
(بخاری، محمد بن اسماعیل البخاری، م:256ھ، صحیح البخاری، رقم الحدیث:614، ص:1/126، دار طوق النجاة، ط:الاولیٰ 1422ھ)

مفہوم حدیث:

حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھے:

’’اے اللہ! اس دعوتِ کاملہ اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی نماز کے رب: آپﷺ کو فضیلت اور مقامِ تقرب عطا فرمائیے، اور آپﷺ کو وہ مقامِ محمود عطا فرمائیے جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔‘‘

تو اس کے لیے میری شفاعت لازم ہوجائے گی۔

تشریح:

نبی کریم ﷺ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں اور بہت سارے امتیازات عطا فرمائے ہیں وہاں ایک امتیاز رسول اللہ ﷺ کا یہ ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مقامِ محمود عطا فرمائیں گے۔ مقامِ محمود کا تذکرہ قرآن کریم میں بھی ہے۔ مفسرین مقامِ محمود کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو قیامت والے دن شفاعت کا منصب عطا فرمائیں گے۔ آپ ﷺ کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ جس کی چاہیں شفاعت فرما لیں۔ شفاعت کے اس منصب کو مقامِ محمود کہا جاتا ہے۔

جو آدمی اذان کے بعد درج بالا دعا رسول اللہ ﷺ کے حق میں کرتا ہے، نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ میں قیامت والے دن اس کی شفاعت کروں گا۔ اذان میں جناب نبی کریم ﷺ کی رسالت کا اقرار کیا جاتا ہے اور اذان کے فوراً بعد نبی کریم ﷺ کے لیے مقامِ محمود کے حصول کی خواہش کی جاتی ہے۔ اگر ایک مومن اس بات کو ذہن میں رکھے اور نبی کریم ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کے عشق کو دل میں رکھتے ہوئے اذان میں اقرار کے کلمات سنے اور اسی توجہ کے ساتھ اذان کے بعد نبی کریم ﷺ کے لیے یہ دعا بھی کرے، تو یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے دل میں جناب رسول اللہ ﷺ کی محبت میں مزید اضافہ فرمائیں گے اور اس کو قیامت کے دن نبی کریم ﷺ کی شفاعت بھی نصیب ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *