Hafiz Hassan

اسلام میں آسانی کا تصور اور حدود

اسلام میں آسانی کا تصور اور حدود

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ  وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی) بزرگان محترم اور میرے عزیر دوستو اور بھائیو!    اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اسے مختلف قسم کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ انسان کو اللہ تعالی نے جسمانی اور ذہنی اتنی صلاحیتیں اور طاقتیں عطا فرمائی ہیں کہ ایک طرف اس نے زمین اور سمندر کی گہرائیوں کو مسخر کیا اور دوسری طرف فضا کے وسعتوں کو اپنا تابع بنایا ہے۔ کائنات کے مختلف چھپے ہوئے راز ہر نت نئے دن  انسان جاننے کی کوشش میں ہے اور بہت ساری کوششوں میں کامیاب بھی ہے۔ تو یہ انسان کی طاقت کی صورتحال ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے انسان کو لاچار بھی بنایا ہے۔ کہ انسان کہ انسان مجبور ہے۔ وہ بیماری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ موسم کی سردی اور گرمی اور مختلف قسم کے جو مصائب دنیا میں پیش آتے ہیں انسان اسے متاثر ہوتا ہے۔ کہ ٹھنڈی ہوا بھی اس پہ اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ گرم لو بھی اس کو متاثر کر دیتی ہے۔ تو ایک طرف انسان کو اللہ نے خوب طاقتیں دی ہیں اور دوسری طرف اس کو لاچار ضعیف اور کمزور بھی بنایا ہے ۔تو یہ انسان کی دو متضاد صفات ہیں ۔کہ ایک رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی طاقتور نظر آتا ہے۔ اور دوسرے رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی مجبور نظر آتا ہے۔ اتنا مجبور کہ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہو سکتا ہے نہ اپنی مرضی سے اپنے لیے خاندان کا انتخاب کر سکتا ہے کہ میں کس خاندان میں پیدا ہوں گا اور نہ ہی دنیا سے جانے کے لیے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو یہ انسان کو متضاد قسم کی صفات اللہ تبارک و تعالی نے عطا کر رکھی ہیں۔  شریعت چونکہ تمام انسانوں کے لیے ہے جہاں انسانوں میں مشترکہ طور پر اللہ نے کمزوری کی صفت پیدا کی ہے۔ وہاں انسان اپنی صفات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ایک انسان ذرا طاقتور ہوتا ہے، ایک انسان کمزور ہوتا ہے، ایک کی صحت اچھی ہوتی ہے، ایک کی کچھ کمزور ہوتی ہے، ایک کی عمر زیادہ ہوتی ہے، دوسرے کی کم ہوتی ہے۔ اور شریعت تمام انسانوں کے لیے ہے چاہے وہ کمزور ہو یا چاہے وہ طاقتور ہو تو اللہ تبارک و تعالی نے شریعت کے نزول میں تمام انسانوں کے مصلحت کو پیش نظر رکھا کہ جب احکامات دیے جاتے ہیں تو اس میں جہاں طاقتور کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہاں کمزور کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ جہاں صحت مند کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ وہاں ایک بیمار نے بھی شریعت پہ عمل کرنا ہے اس نے بھی دین پر چلنا ہے۔ اس نے بھی اللہ تبارک و تعالی کی رضامندی کے حصول کو اپنے لیے یقینی بنانا ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالی نے کمزوروں کی کمزوری کو پیش نظر رکھتے ہوئے دین میں ایک بنیادی صفت کو شامل کیا جسے ہم یسر عربی زبان میں کہتے ہیں اور اردو میں آسانی کہتے ہیں ۔کہ اللہ تبارک و تعالی نے دین میں آسانی کو پیدا کیا کہ یہ دین آسان ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی جگہ جگہ ہے۔ وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ ترجمہ:”اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی”  اللہ تبارک و تعالی نے تمہارے لیے دین میں کوئی مشقت نہیں رکھی،مشکل نہیں رکھی۔  مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ ترجمہ: “اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا” اللہ تبارک و تعالی نے یہ ارادہ نہیں کیا یہ اس کی مشیت نہیں ہے کہ وہ تم لوگوں کو مشقت میں ڈال دے۔ بلکہ اللہ جل جلالہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف انداز اور مختلف پیرائے میں اللہ تبارک و تعالی نے ان حقائق کو واضح فرمایا کہ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔اگر کوئی نابینہ ہے تو اللہ جل جلالہ نے اس پر کوئی مشقت نہیں رکھی، اس کے لیے آسانی رکھی ہے۔ اسی طریقے سے اگر کوئی شخص مریض ہے بیمار ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے بھی کوئی مشکل نہیں رکھی، مشقت نہیں رکھی ،بلکہ اللہ جل جلالہ نے ان بیماروں کے لیے ان لاچاروں کے لیے اسانی رکھی ہے کہ اگر کوئی صحت مند ہے تو وہ دین میں عظیمت کے راستے پر عمل پیرا ہو،  کہ جو دین کے اصل احکامات ہیں کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی ہے، روزہ رکھنا ہے اور اسی طریقے سے جو بھی احکامات صحت مند کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ تو جو شخص حالت صحت میں ہے تو وہ ان احکامات میں عمل کرے۔ لیکن دوسری طرف اگر کوئی شخص کمزور ہے، مجبور ہے، بیمار ہے، کوئی اور ذوق(ضعف)  اس کو لاحق ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے دین میں نرمی  پیدا کی ہے۔ آسانیاں  رکھی  ہیں۔ قران کریم میں جگہ جگہ اپ کو اس قسم کی آیات ملیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعدد فرامین میں دین کی اس بنیادی صفت کو واضح فرمایا ۔ چنانچہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ اِنَّ هَذَا الدِّيْنَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّيْنَ اَحَدٌ الاَّ غَلَبَهُ  اللہ تعالی نے اس دین میں آسانی رکھی ہے اور اگر کوئی شخص اس کو پچھاڑنے کی کوشش کرے گا یعنی دین میں شدت لانے کی کوشش کرے گا بے جا سختی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ دین اس کو عاجز کر دے گا ۔ وہ نہیں لا سکتا اس میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ یہ دونوں بڑے معروف جلیل القدر صحابہ ہیں ان کو نبی کریم صلی اللہ…

Read More
Quran Classes

Quran Classes

Pasban Islamic Center ki taraf se tayar ki gayi yeh Quran Classes series har us shakhs ke liye ek behtareen resource hai jo Quran ko samajhna chahta hai. In classes mein Tilawat, Tarjuma aur Tafseer asaan zuban mein samjhaya jata hai, taake har shakhs Quran ka paigham behtar tareeke se samajh sake. Yeh classes mukhtalif Surahs aur Quranic Topics par mabni hain, jo Islami taleemaat aur roshni hasil karne ke liye ek zaroori qadam hain. قرآن کلاسز پاسبان اسلامک سینٹر کی طرف سے تیار کی گئی یہ قرآن کلاسز سیریز ہر اس شخص کے لیے بہترین ذریعہ ہے جو قرآن کو سمجھنا چاہتا ہے۔ ان کلاسز میں تلاوت، ترجمہ اور تفسیر آسان زبان میں بیان کی جاتی ہے تاکہ ہر شخص قرآن کے پیغام کو بہتر طریقے سے سمجھ سکے۔ یہ کلاسز مختلف سورتوں اور قرآنی موضوعات پر مشتمل ہیں، جو اسلامی تعلیمات اور روشنی حاصل کرنے کے لیے ایک ضروری قدم ہیں۔  

Read More
Shan e Sahaba

صحابہ کی شان

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: “لا تسبوا أصحابي فوالذی نفسی بیدہ لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه۔ صدق اللہ العظیم اللہ کا پیغام اور پیغمبر کا واسطہ بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو! اللہ جل جلالہ اپنا پیغام اپنے بندوں تک پیغمبر کے ذریعے پہنچایا کرتے ہیں۔ پیغمبر، اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے درمیان ایک واسطے کی حیثیت رکھتا ہے، جو اللہ کا پیغام وصول کرتا ہے اور اس کے بندوں تک پہنچاتا ہے۔ آگے اللہ تعالی نے اپنے بندوں میں سے کچھ خاص لوگوں کا انتخاب کیا ہوتا ہے اور انہیں یہ سعادت بخشی ہوتی ہے کہ وہ وقت کے پیغمبر کے براہ راست صحبت یافتہ ہوتے ہیں، اس کی براہ راست تربیت میں رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں اور اللہ کے پیغام اس کے پیغمبر کی زبانی سن کر دنیا کے اطراف تک اور دیگر لوگوں تک پہنچانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ صحابہ کرام  کا منفرد مقام چنانچہ ہر پیغمبر کو اللہ تبارک و تعالی نے ایسے ہی سعادت مند صحبت یافتہ افراد عطا کیے تھے، اور ان صحبت یافتہ افراد کو اللہ تبارک و تعالی نے دیگر لوگوں سے منفرد مقام عطا کیا تھا۔ چنانچہ ان پر آزمائشیں بھی آتی تھیں، امتحانات بھی آتے تھے۔ یہ اللہ کا اصول ہے کہ وہ اپنے بندوں کے درجات کے اعتبار سے ان پر آزمائشیں بھیجتا ہے۔ جتنا کوئی بندہ اللہ کے زیادہ قریب ہو اسی قدر سخت آزمائش اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ سب سے سخت امتحانات انبیاء پہ آتے ہیں کیونکہ وہ روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کے سب سے قریب بزرگ شخصیات ہوتی ہیں۔ان کے درجات کے اعتبار سے ان کی آزمائش امتحان بھی سخت ہوتا ہے۔ اسی طریقے سے پیغمبر کی جو براہ راست متبعین اور ان کے شاگرد ہوتے ہیں، وہ دیگر افراد کے مقابلے میں اللہ کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ کائنات کے دیگر لوگ، جو پیغمبر کے بعد آئیں گے یا پیغمبر سے دور رہتے ہیں اور انہیں پیغمبر کی زیارت اور اس کی مجلس میں بیٹھنے کی سعادت نہیں ملی تو ان لوگوں کی بنسبت ان کا درجہ بلند ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کی آزمائش بھی عام لوگوں سے سخت ہوا کرتی ہے۔ مختلف پیغمبروں کے براہ راست صحبت یافتہ حضرات پر آزمائشیں آتی رہیں وہ اس میں کامیاب بھی ہوئے اور کبھی معاملہ برعکس بھی ہوا۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کی قربانیاں تاریخ میں آپ نے پڑھا ہوگا حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے بارے میں کہ یہ حواری حضرت عیسی علیہ السلام کے براہ راست صحبت یافتہ تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کا کلام اور ان کا پیغام سنتے تھے، اور دنیا کے اطراف تک پہنچانے کا اہتمام کرتے تھے۔ حضرت عیسی علیہ السلام کے پیغام کو دور دور تک پہنچانے کے لیے انہوں نے بڑے امتحانات بھی جھیلے۔ چونکہ وہ وقت ایسا تھا کہ دنیا میں یہودیوں کا غلبہ تھا حضرت عیسی علیہ السلام جس ماحول میں آئے تھے، اس ماحول پر یہودیوں کا غلبہ تھا اور یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کے دشمن تھے تو ماحول ان کا مخالف تھا۔ مخالفانہ ماحول میں حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں نے بڑی قربانی دے کر ان کا پیغام دیگر لوگوں تک پہنچایا۔ جب حضرت عیسی علیہ السلام اس زمین پہ نہ رہے اللہ کے ہاں تشریف لے گئے تو ان کے دین کے باقی رکھنے کی ذمہ داری ان حواریوں کی تھی، لیکن اللہ جل جلالہ کی مشیت کچھ اور تھی۔ عیسائیت میں شامل تحریفات چنانچہ حضرت عیسی علیہ السلام کے دین کی حفاظت ان کے یہ جلیل القدر حواری بھی نہ کر سکے۔ اور پورس نامی ایک شخص حواری کا روپ دھار کے ان میں شامل ہوا اور اس نے حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات کے اصول، اساس اور بنیادیں تک تبدیل کردی۔آج عیسائیوں کے پاس حضرت عیسی علیہ السلام کے نام سے جو کچھ ہے بہت کم تعلیمات حضرت عیسی علیہ السلام کی ہوں گی، ورنہ اکثر اصول اسی پورس نے تراش رکھے ہیں۔ چنانچہ ان کے ہاں کفارے کا عقیدہ ہے اور الوہیت کا عقیدہ ہے اور یہ جو پاپائیت کا نظام ہے یہ تمام تر اصول حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات سے متصادم ہے۔ پورس نے یہ شامل کیے تھے اور عیسائیوں نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کے جو براہ راست صحبت یافتہ تھے ان کے واقعات معروف ہیں کہ کس قدر مختلف قسم کی وہ حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ فرمائشیں کرتے تھے۔حضرت موسی علیہ السلام اللہ کے حضور دعا کر کے ان کی وہ فرمائشیں پوری کرتے تھے۔ حضرت موسی علیہ السلام کو مصر سے ہجرت کا حکم جب اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو مصر سے نکلنے کا حکم دیا کہ اپنے ان براہ راست صحبت یافتہ حضرات جو بنی اسرائیل قبیلے سے متعلق تھے ان کو لے کے مصر سے نکلے اور جو آپ حضرات کا آبائی علاقہ ہے شام اور فلسطین وہاں جائیں۔ اب شام اور فلسطین میں قوم عمالقہ کا تسلط تھا جو بڑی جابر طاقتور قوم تھی۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر نکلتے ہیں، فرعون تعقب کرتا ہے، اللہ تعالی نے ان کی حفاظت فرمائی اور فرعون کو اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق کیا۔ حضرت موسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کے نکلے اور جب اللہ کا پیغام انہیں سنایا گیا کہ شام اور فلسطین کے علاقے کو عمالقہ کے تسلط سے آزاد کروانا ہے تو ان کی قوم نے سرکشی کی۔ حضرت موسی علیہ السلام نے قوم عمالقہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے اپنے کچھ قریبی حضرات کو بھیجا کہ وہاں جاؤ اور ان کا جائزہ لو کہ کیا ان کی جنگی تیاری ہے؟ وہ وہاں گئے اور…

Read More
دنیا میں مسلمانوں کی ترقی کا راز

دنیا میں مسلمانوں کی ترقی کا راز

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْۚ-اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کےلیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمھیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمھارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ خیر اور شر کی ازلی کشمکش بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو! دنیا میں ہمیشہ سے خیر اور شر کی قوتیں باہمی متحارب رہی ہیں، ایک دوسرے کے مقابلے میں ہمیشہ سے صف آراء ہیں۔ شر کے لیے عام طور پر مختلف قوتیں  کام کرتی ہیں، گویا کہ شر مختلف قوتوں کے ساتھ طاقتور ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ شر کا فائدہ نقد ہوتا ہے اور شر کی مٹھاس انسان کے سامنے ہوتی ہے تو لوگ عام طور پر شر کی طرف جلدی راغب ہوتے ہیں۔  اس کے مقابلے میں خیر ہے تو خیر کا جو فائدہ ہے وہ انسان کی نظروں سے اوجھل ہے کہ آدمی کی آنکھ بند ہوگی وہ قبر میں اترے گا تو پھر اس کو خیر کے فوائد حاصل ہوں گے۔ نیکیوں کا اجر اللہ کے دربار سے ملے گا تو خیر کا اجر خیر کے فوائد نگاہوں سے اوجھل ہوتے ہیں، ادھار ہوتے ہیں، موخر ہوتے ہیں، اسی طریقے سے خیر کی حلاوت بھی عام طور پر نظروں سے غائب ہوتی ہے۔ خیر کی طرف انسان بتکلف مائل ہوتا ہے اسے اپنے نفس کے اوپر جبر کر کے خیر کی طرف آنا پڑتا ہے۔ تو شر اور خیر کے درمیان جب بھی مقابلہ ہوتا ہے تو شر کی طرف لوگوں کا رجحان آسان ہوتا ہے، زیادہ ہوتا ہے اور خیر کی طرف لوگوں کا رجحان کم ہوتا ہے۔ اس لیے عام طور پر شر کو بہت ساری قوتیں دستیاب ہوتی ہیں جن سے وہ کام لے کر اپنے آپ کو دنیا میں غالب رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔  شر کے مقابلے کے لیے خیر کو اپنا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ مختلف طریقوں سے اپنے آپ کو قوت فراہم کرنی پڑتی ہے۔ اللہ جل جلالہ کا جو حکم ہے وہ سراپہ خیر ہے۔ اللہ کی اطاعت میں ہی انسانوں کے لیے خیر پوشیدہ ہے اور اللہ کی نافرمانی کی جو بھی شکل ہو وہ شر کی ایک عملی صورت ہوتی ہے۔ بعثت رسول ﷺ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالی نے مبعوث فرمایا اور انسانیت کی طرف اپنا نمائندہ، اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا اور یہ اعلان ہوا  قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا ترجمہ: (اے رسول ان سے) کہو کہ: اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ تو چاہے انسان عرب میں آباد ہو افریقہ میں آباد ہو یورپ میں ہو دنیا کے کسی خطے میں بستا ہو اور کسی زمانے میں آیا ہو اس کے لیےخیرکا دارومدار جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد سراپہ خیر آپ علیہ الصلاۃ والتسلیمات کی تعلیمات ہیں گویا کہ جو انسان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ مسلمانوں کی صف میں جو انسان کھڑا ہے تو وہ خیر کا نمائندہ ہے۔ اس کے مقابلے میں جو بھی ہے تو وہ شر کا نمائندہ ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہی میں اللہ تبارک و تعالی نے نجات کا واحد راستہ قرار دیا اور آپ کی سنت پر عمل کو اللہ جل جلالہ نے اپنے تک رسائی کا واحد ذریعہ قرار دیا۔ تو یہ بات واضح ہو گئی کہ اب اگر کسی کو خیر درکار ہے کوئی آدمی یہ چاہتا ہے کہ میں خیر کی صفوں میں کھڑا ہو جاؤں، شر کے لوگوں میں میرا شمار نہ ہو، تو اس کے لیے ایک ہی طریقہ کار ہے،  وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔  میں نے عرض کیا کہ خیر اور شر کی قوتوں میں ہمیشہ سے تقابل رہا ہے، مقابلہ رہا ہے اور یہ سلسلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد بھی چلتا رہا کہ جو آپ کے ساتھ لوگ ہیں، جو خیر کے نمائندے ہیں، جنہیں مسلمان کہا جاتا ہے ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جنہیں مشرک کہا جاتا ہے۔ مسلمان اور غیر مسلم کی شکل میں خیر اور شر کے نمائندوں یا خیر اور شر کی قوتوں کے درمیان ہمیشہ سے مقابلہ رہا ہے۔ شر کے مقابلے میں خیر کا دفاع: صفات، حکمت اور روحانی طاقت اللہ تبارک و تعالی نے خیر کو یعنی مسلمانوں کو شر کے مقابلے کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا ہے کہ شر سے دفاع کس طرح کرنا ہے یا جو مسلمان نہیں ہیں جو غیر مسلم ہیں اللہ کے دین کے دشمن ہیں اللہ جل جلالہ کے نام لیواؤں کے دشمن ہیں تو ان سے اپنے آپ کو بچانا کیسے ہے یا ان کا مقابلہ کیسے کرنا ہے؟ یہ تعلیمات واضح طور پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی اللہ تبارک و تعالی نے مسلمانوں کو عطا فرمائی ہیں۔ دو طریقوں سے انسان اپنے آپ کو شر سے بچاتا ہے سب سے پہلے انسان اپنے اندر کچھ ایسی صفات پیدا کرتا ہے تاکہ ان صفات کے بل بوتے پر وہ شر کے مقابلے میں صف آراء ہو سکے۔ دشمن کے مقابلے میں طاقت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ طاقت صرف گولی اور بارود کا نام نہیں ہے یا طاقت صرف جسمانی قوت ہی…

Read More
Sport Day

Annual Support Day 2025 – یادگار لمحات!

الحمدللہ! Pasban Islamic Centre میں Annual Support Day کا شاندار انعقاد ہوا، جہاں بچوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ خصوصی مہمان: محترم مفتی سید مجیب الرحمن صاحب نے بھی اس پُرمسرت موقع پر شرکت کی۔ انہوں نے بچوں کے ساتھ وقت گزارا، کھیل میں ان کا ساتھ دیا اور انہیں خوشی و حوصلے کا پیغام دیا۔ تلاوتِ قرآن سے بابرکت آغاز نعت شریف ترانہ کرکٹ اور فٹبال میچز زبردست سائیکل ریس اور بہت کچھ! دیکھیں ان حسین لمحات کی جھلکیاں اور ہمیں بتائیں کہ آپ کو سب سے زیادہ کون سا لمحہ پسند آیا؟

Read More
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا مقام ومرتبہ

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ عن  ام سلمۃ رضی اللہ عنھا قالت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لا یبغض علیا مومن ولا یحبہ منافق (رواہ ابن ابی شیبہ فی المصنف) اللہ تعالیٰ کی محبت اور نبی کریم ﷺ کی اطاعت بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو!           اللہ جل جلالہ نے ہم سب کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے، اور یوں کہیے کہ اللہ تعالی نے اپنے تک رسائی کا صرف ایک ہی راستہ رکھا ہے، اور وہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل۔ قرآن کریم نے اس کا واضح ارشاد ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  آپ ان کو کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ جل جلالہ سے محبت کرتے ہو، اللہ کی محبت کے دعویدار ہو تو میری اتباع کرو، اس کا نتیجہ یہ ہوگا اللہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔گویا کہ اللہ جل جلالہ کی محبت کو حاصل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے، اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا راستہ ہے۔جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر جتنا عمل کرے اسی قدر وہ اللہ تبارک و تعالی کے قریب ہے۔ سنت کا علم حاصل کرنے کے ذرائع           اب یہ سنت ہمیں کہاں سے پتہ چلے گی؟سنت کا علم ہمیں کہاں سے ہوگا؟سنت کا علم حاصل کرنے کے دو ذرائع ہیں۔ دو ایسے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑے ہیں کہ جن کی بنیاد پر امت کے لیے سنت کا ورثہ چھوڑا گیا یا امت کے لیے سنت حاصل کرنے کا ذریعہ رکھا گیا۔ کتابیں:ایک ذریعہ کتابیں ہیں کہ آپ کتابوں کے ذریعے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس کام کرنے کی ترغیب دی یا کون سا کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا۔ یہ آپ کو سنت کی کتابوں میں حدیث کی کتابوں میں ملے گا۔ رجال(شخصیات): دوسرا بڑا ذریعہ رجال ہیں، بندے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے صحابہ کرام کی تربیت کی۔ صحابہ کرام گویا چلتی پھرتی سنت کی تصویر تھے اور صحابہ کرام کے بعد تابعین، تبع تابعین ہیں۔ہر زمانے میں امت میں ایسے صلحا رہے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہیں اور ان کی زندگی کو دیکھ کر انسان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا علم حاصل کر سکتا ہے کہ وہ اس طرح عمل کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل اس طرح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی جماعت کو تیار کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خصوصی تربیت           صحابہ کرام کی جماعت میں سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہ امتیاز ہے وہ بچپن سے لے کر ایک طویل زمانے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت علی نے بچپن گزارا۔           آپ کو معلوم ہے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے والد، جناب ابو طالب یہ عیالدار بھی تھے اور مالی اعتبار سے تنگ رہا کرتے تھے۔ کیونکہ یہ مکہ کے رئیس تھے اور لوگوں کی حاجات پوری کرنا رئیس اور سردار اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا۔لوگوں کی حاجات پوری کرتے کرتے بعض اوقات مقروض ہو جایا کرتے تھے۔ذرائع آمدن کچھ اتنے زیادہ نہیں تھے تو جناب ابو طالب کی تنگدستی کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بچپن سے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تربیت میں لیا، تاکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے اخراجات ان کے والد ماجد پر نہ ہوں، اور کسی حد تک ان کو ان کے لیے مالی تنگدستی کو کم کیا جائے۔ اس مقصد کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنی کفالت میں لیا۔ اب یہ حضرت علی کے بچپن کا زمانہ ہے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت میں آئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اولین اسلام قبول کرنا           آپ 10 سال کے تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا اور آپ پر وحی نازل ہوئی، تو بچوں میں سب سے پہلے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے۔ غار حرا میں جب حضرت جبرائیل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کی خوشخبری دی کہ اللہ نے آپ کو نبی بنایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے، ام المومنین حضرت خدیجۃ، آپ کی صاحبزادیاں، حضرت علی اور آپ کے گھر میں آپ کی کفالت میں تھے،حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت گار تھے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رفیق تھے قریبی دوست تھے۔          ان میں سے پہلے کون مسلمان ہوا بعد میں کون مسلمان ہوا، یہ سیرت کے محققین کے لیے بڑا معمہ ہے کہ ترتیب کیسے دی جائے چونکہ یہ سارے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی شمار ہوتے تھے۔آسانی کے لیے پھر یہ ترتیب اپنائی گئی کہ خواتین میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئیں، بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے، بالغوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے۔ تو بالکل ابتدا میں اپنے بچپن کے زمانے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوئے۔ ابتدائی نماز کی حالت           جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدا میں لوگوں کو مسلمان ہونے والوں کو نماز سکھانا شروع کی، تو مسلمان چھپ کر…

Read More

مظلوم کی نصرت(سیرت طیبہ کی روشنی میں)۔

اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ  لَا  تُنۡصَرُوۡنَ صدق اللہ العظیم :ترجمہ اور (مسلمانو) ان ظالم لوگوں کی طرف ذرا بھی نہ جھکنا، کبھی دوزخ کی آگ تمہیں بھی آپکڑے اور تمہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی قسم کے دوست میسر نہ آئیں، پھر تمہاری کوئی مدد بھی نہ کرے۔ انسان کی خلافت اور صفت عدل بزرگان محترم اور میرے عزیز دوستو اور بھائیو  اللہ جل جلالہ نے اس کائنات کو پیدا کیا اور اس کائنات میں اپنی خلافت کے لیے تمام تر مخلوقات میں سے انسان کا انتخاب کیا۔اللہ کی مخلوقات بے شمار ہیں، ان تمام تر مخلوقات میں سے اللہ نے انسان کو اپنی نیابت اور روئے زمین پر اپنی خلافت کے لیے منتخب کیا۔ گویا کہ انسان کی ذمہ داریاں دیگر مخلوقات کے اعتبار سے بہت زیادہ ہیں۔  خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان جہاں روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کی عبادت،  اللہ تبارک و تعالی کی بندگی اور اطاعت کا ذمہ دار ہے، وہاں انسان روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کی مختلف صفات کو ظاہر کرنے کا بھی سبب ہے۔ اللہ جل جلالہ کی مختلف صفات میں سے ایک صفت اللہ تعالی کی صفت عدل ہے۔اللہ تبارک و تعالی عادل ہے،  انسان چونکہ روئے زمین پر اللہ تعالی کا نائب اور  خلیفہ ہے، خلیفہ ہونے کی حیثیت سے اللہ کی صفات کو زمین پر ظاہر کرنے کا سبب ہے۔ جہاں اللہ کی دیگر صفات کو روئے زمین پر ظاہر کرتا ہے، وہاں انسان کو زمین پر اللہ جل جلالہ کی صفت عدل کو بھی ظاہر کرنے کا ذمہ دار ہے۔یعنی، اسے روئے زمین پر عدل سے کام لینا ہو گا۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ کی صفت عدل کو بھی روئےزمین پر ظاہر کرنے کا سبب یہ انسان ہے۔ عدل کے مختلف تقاضے  عدل کے مختلف تقاضے ہیں۔ عدل کا ایک تقاضہ یہ بھی ہے کہ کسی کا حق نہ مارا جائے، بلکہ ہر شخص کو اس کا پورا پورا حق دیا جائے۔ انسان اس بات کے لیے کوشش بھی کرے کہ وہ نہ خود کسی کا حق مارے نہ دوسرے کوکسی اور کا حق مارنے دے۔ اسی طرح، عدل کا ایک تقاضہ یہ ہے کہ انسان اپنی ہر ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے ادا کرے۔ اس کی ایک ذمہ داری عبادت ہے، ایک ذمہ داری اس کی اطاعت اور بندگی ہے،لہذا ان تمام تر ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے ادا کرے۔ بندوں کے ساتھ معاملات جو اللہ نے انسان کے ذمے عائد کیے ہیں انہیں پورے طریقے سے ادا کرے۔ گویا، جس وقت جس انسان کی جہاں جو ذمہ داری ہو اس ذمہ داری کو پوری توانائیصرف کر کے ادا کرنا یہ بھی عدل کا ایک تقاضا ہے۔ عدل اور ظلم کے خاتمے کی ذمہ داری عدل کا ایک بہت بڑا تقاضہ یہ ہے کہ انسان روئے زمین پر ظلم کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ ہر انسان یہ کوشش کرے کہ روئے زمین پر ظلم کا خاتمہ کرے۔ انفرادی طور پر بھی ہر انسان اس بات کا مکلف ہے اور اجتماعی طور پر پورا انسانی معاشرہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ روئے زمین پر ظلم کے خاتمے کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرے۔آج جو میں نے آیتآپ کے سامنے پڑھیوَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا اس میں اللہ تعالی نے یہی حکم دیا ہے ظالموں کی طرف کہیں تمہارا میلان نہ ہو جائے۔ ظالموں کی طرف میلان مت رکھو، ان کی طرف رجحان مت رکھو، فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۙ ورنہ کیا ہوگا تمہیںآگ چھو لے گی تمہیںآگ کی سزا دی جائے گیوَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ثُمَّ  لَا  تُنۡصَرُوۡنَ اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی مددگار نہیں ہیں اور پھر تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔ گویا کہ اگر انسان روئے زمین پر ظلم کے خاتمے میں اپنا کردار ادا نہ کرے، حالانکہ وہ کر سکتا ہے،  اور ظالموں کی طرف اس کا میلان ہو جائے،ظالم کی طرف اس کا رجحان ہو جائے، تو وہ اللہ جل جلالہ کی نصرت سے محروم ہو جاتا ہے۔ لہذاروئے زمین پر ظلم کے خاتمے  کے لیے اپنا کردار ادا کرنا یہ اللہ جل جلالہ کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ :عدل اور ظلم کے خاتمے  کی ذمہ داری ذوالقرنین کا واقعہ ہر دور میں جو انسان اس روئے زمین پر اللہ جل جلالہ کی خلافت کا حق ادا کرتے رہے ہیں،ان کییہ کوشش رہی ہے کہ روئے زمین پر ظلم کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں کرے۔ قرآن کریم میں ایک جگہ ذوالقرنین نامی ایک بادشاہ کا ذکر ہے، اور اللہ نے اس کا ذکر تعریفی انداز میں کیا ہے۔ سورہ کہف میں ذوالقرنین کے سفر کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے،جہاں ان کا سامنا  ایک ایسی قوم سے ہوا جس کا واسطہ یاجوج ماجوج نامی ایسی مخلوق سے پڑھ رہا تھا جو ظالم ہے۔  جس قوم سے اس کی ملاقات ہوئی وہ قوم مظلوم تھی۔ اس کا واسطہیاجوج ماجوج نامی ایک ظالم مخلوق سے پڑا ہوا تھا  جو ان کے ظلم سے تنگ تھے۔ اس مظلوم قوم نے ذوالقرنین سے درخواست کی کہ آپ بادشاہ ہیں، صاحب حیثیت ہیں، لشکر جرار آپ کے ساتھ ہے تو آپ ہمارے لیے کوئیآڑ کھڑی کر دیجیےتاکہ ہمارے اردگرد  جو یاجوج ماجوج نامی ایک ظالم مخلوق آباد ہے اور یہ ہم پہ حملہ اور ہو کر ہمیں تاراج کرتی رہتی ہے،یہاں فساد مچانے کا سبب ہے، کوئیآڑ، کوئی دیوار، کوئی بند بنا دیجیے تاکہ یہ ظالم مخلوق ہم پہ حملہ آور نہ ہو  سکیں  اور ان کے علاقے میں فساد نہ مچا سکیں۔ آپ اگر کہیں توہم آپ کو اس کا معاوضہ بھی دے دیتے ہیں،  ہم آپ کے لیے کوئی ٹیکس یا  خراج جمع کر دیتے ہیں،بسآپ ہمارے لیے اس ظلم سے بچاؤ کا سبب بن جائیے اور یہ اڑ بنا دیجیے۔ چونکہ ذوالقرنین ایک نیک بادشاہ تھا اور نیک ہونے کا اہم تقاضہ یہ…

Read More