عرب کی مذہبی صورتحال

arab-ki-deeni-halat

عرب کی مذہبی صورتحال

جزیرۃ العرب سے مراد وہ پورا جزیرہ نما ہے جس کے ایک طرف بحرِ احمر، دوسری طرف بحرِ روم، تیسری طرف فارس اور جنوب میں بحرِ عرب ہے۔ شمال میں کردستان کی پہاڑیاں اسے ترکی سے جدا کرتی ہیں اور مغرب میں نہر سویز افریقہ سے علیحدہ کرتی ہے۔ شمالاً جنوباً پورٹ سعید (العریش) سے عدن تک طول پندرہ سو میل اور شرقاً غرباً سویز سے فرات تک عرض چھ سو میل ہے۔ اس کا کل رقبہ تیرہ لاکھ مربع میل ہے۔

جزیرۃ العرب کا سارا علاقہ مسطح نہیں، کہیں کہیں کوہستانی سلسلے موجود ہیں۔ بڑا حصہ لق و دق صحرا ہے۔ شمالی حصے میں شام اور سعودی عرب کا درمیانی علاقہ ایک وسیع ریگستان ہے جسے اہلِ عرب ’’بادیہ شام‘‘ اور غیر عرب ’’بادیہ عرب‘‘ کہتے ہیں۔ جنوبی حصے میں یمن، عمان اور یمامہ کے درمیان دوسرا ناقابلِ بود و باش بے آب و گیاہ صحرا ہے، جسے ’’ربع الخالی‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس صحرا کی ایک نوک بحرین اور نجد سے گزر کر صحرائے شام میں داخل ہو جاتی ہے۔ اس صحرا کا مجموعی رقبہ اڑھائی لاکھ مربع میل ہے۔ ’’ربع الخالی‘‘ کے جنوبی حصے میں تھوڑی سی بارش سے کچھ ہریالی ہو جاتی ہے۔ خانہ بدوش قبیلوں کے اونٹوں کا گزارہ اسی ہریالی پر ہے۔ یہ قبائل سبزے کی تلاش میں سارا سال گھومتے پھرتے ہیں۔

جزیرہ عرب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ افریقا، یورپ اور ایشیاء کے سنگم پر واقع ہے۔ دنیا کے بیچوں بیچ واقع ہونے کی وجہ سے مکہ مکرمہ کو ’’ناف الارض‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے کی منفرد خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دنیا کے مختلف موسم یہاں پائے جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ کا موسم افریقا سے مشابہ ہے، مدینہ منورہ کا موسم ایشیاء کے اعتدال کی نمائندگی کرتا ہے، اور طائف کا موسم جنوبی یورپ جیسا ہے۔

قدیم زمانوں میں اس علاقے پر مختلف سلطنتوں کا جزوی تسلط تھا۔ شمالی عرب پر بازنطینی سلطنت کا قبضہ تھا۔ مشرق اور شمال مشرقی علاقے، عمان اور بحرین (موجودہ الاحساء)، ایران کی ساسانی سلطنت کے حصہ تھے۔ یمن اہلِ حبشہ کی حکمرانی میں تھا۔ مختلف حکومتوں اور سلطنتوں کے تسلط کی وجہ سے عرب میں متعدد مذاہب پائے جاتے تھے۔

یہودیت اور عیسائیت اپنی بگڑی ہوئی شکل کے ساتھ عرب میں موجود تھیں۔ عام عیسائی صرف حضرت مسیحؑ کو ’’ابن اللہ‘‘ کہتے تھے، لیکن عرب کے عیسائی مریم کو اللہ کی ’’جورو‘‘ اور فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت عزیرؑ کو تورات کے ازبر لکھ دینے کی وجہ سے ’’ابن اللہ‘‘ کہتے تھے۔ عرب کے یہودی اپنے تمام مرد و خواتین کو خدا کے بیٹے، بیٹیاں اور پیارے کہا کرتے تھے۔

ملحد اور دہریے بھی عرب میں آباد تھے جو حیات اور موت کو محض اتفاق قرار دیتے تھے۔ یہاں کے باشندوں کا اصل اور آبائی مذہب دینِ ابراہیمی تھا جو حضرت اسماعیلؑ کی بدولت ان تک پہنچا تھا۔ لیکن رفتہ رفتہ دینِ ابراہیمی معدوم ہوتا چلا گیا اور اس کی جگہ بت پرستی نے لے لی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *