عرب میں دین ابراہیمی کے علمبردار

arab-ke-alambardar

عرب میں دین ابراہیمی کے علمبردار

انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ ہر دور میں ایک طبقہ خواہ وہ کتنا چھوٹا ہی کیوں نہ ہو، اس مقصد پر عمل پیرا رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے۔ اگر یہ چھوٹا طبقہ بھی نہ رہتا تو یہ کائنات اپنی بقاء کا سبب کھو بیٹھتی۔ امام عبدالرزاق نے حضرت علیؓ کی ایک روایت درج کی ہے کہ روئے زمین پر ہر وقت سات افراد پر مشتمل ایسا طبقہ موجود رہتا ہے جو اللہ تعالیٰ کا اطاعت گزار ہوتا ہے۔ اور اگر یہ نہ ہوتا تو زمین اور اس کے اوپر بسنے والے تباہی کا شکار ہوجاتے {FR 16}۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے کہ حضرت نوحؑ کے بعد ہر دور میں کم از کم سات افراد ایسے ضرور پائے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور درست دین پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ گویا اس مختصر جماعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ عذاب کو مؤخر کئے رکھتے ہیں۔

اہلِ عرب کے مشرکانہ ماحول میں بھی کچھ ایسی برگزیدہ شخصیات موجود رہی ہیں جو دین ابراہیمی پر عمل پیرا رہیں۔ سیرت نگاروں کی اصطلاح میں ان کو “حنفاء” کہا جاتا ہے۔ ورقہ بن نوفل اسدی، عبیداللہ بن جحش، عثمان بن الحویرث اور زید بن عمرو بن نفیل عدوی مکہ مکرمہ کی نامور شخصیات تھیں جو بت پرستی سے بیزار اور دین ابراہیمی پر عمل پیرا رہے۔ ان میں سے ورقہ بن نوفل کو نبی کریم ﷺ کی تصدیق کا موقع ملا اور مشرف باسلام ہوئے۔ عبیداللہ بن جحش بھی ابتدا میں مسلمان ہوئے مگر بعد میں حبشہ جا کر نصرانیت اختیار کرلی۔ عثمان بن حویرث کا انتقال شام میں مذہب نصرانیت پر ہوا۔ حضرت زیدؓ کا انتقال دین ابراہیمی پر ہوا۔ حضرت زید بن عمروؓ دین ابراہیمی پر سختی سے کاربند تھے۔ حقیقت کی تلاش میں شام بھی تشریف لے گئے تھے۔ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوتے اور قریش سے فرماتے:

واللہ مامنکم علیٰ دین ابراہیم غیری

’’بخدا تم میں میرے سوا کوئی بھی دین ابراہیمی پر عمل پیرا نہیں ہے۔‘‘

اللہم لو انی اعلم ای الوجوہ احب الیک عبدتک بہ۔ ولکنی لا اعلمہ

’’یا اللہ! اگر میں جانتا کہ عبادت کا کونسا طریقہ آپ کو پسند ہے، تو اسی طریقہ کے مطابق عبادت کرتا۔ لیکن مجھے معلوم نہیں۔‘‘

بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کے سخت خلاف تھے۔ اگر کوئی آدمی اپنی بیٹی کو زندہ درگور کرتا، تو یہ اس کو منع کرتے۔ بعض اوقات اس بچی کو بچانے کیلئے اس کی کفالت اپنے ذمہ لے لیتے {FR 17}۔ یہ آخری نبی کے منتظر تھے۔ حافظ ابن حجر نے عامر بن ربیعہ کی روایت نقل کی ہے کہ زید نے مجھے کہا تھا کہ میں بنی اسماعیل میں مبعوث ہونے والے پیغمبر کا منتظر ہوں۔ لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں ان کا زمانہ پا لوں گا۔ البتہ میں ان پر ایمان لاتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں کہ وہ نبی ہیں۔ اگر تمہاری عمر وفا کرے اور تمہیں ان کا زمانہ ملے تو میرا سلام ان تک پہنچانا۔ عامر کہتے ہیں کہ جب میں اسلام لایا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ تمام صورتحال بتائی۔ آپ ﷺ نے ان کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ میں ان کو جنت میں دامن گھسیٹتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔

ان کی ملاقات قبل از بعثت نبی کریم ﷺ سے ہوئی بھی تھی۔ بخاری کی روایت ہے کہ تنعیم کے علاقہ میں بلداح کے مقام پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں دسترخوان پیش کیا گیا۔ آپ ﷺ نے اس کو تناول فرمانے سے انکار کیا۔ زید بن عمرو بن نفیل بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ میں تمہارے بتوں کے نام کا ذبیحہ نہیں کھاتا۔ حافظ ابن حجر نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے ابن بطال کا قول نقل فرمایا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں قریش نے کھانا پیش کیا، آپ ﷺ نے کھانے سے انکار فرمایا اور زید بن عمرو کی طرف دسترخوان بڑھایا، لیکن انہوں نے بھی نہیں کھایا۔ {FR 18}

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *