عرب میں دین ابراہیمی کی صورتحال

arab-ka-ibrahimi-deen

عرب میں دین ابراہیمی

اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہؑ اور صاحبزادے حضرت اسماعیلؑ کو مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں آباد کیا۔ چاہ زمزم کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پانی کا بندوبست کیا۔ اس علاقہ میں پانی کی فراوانی دیکھ کر قبیلہ جرہم کے لوگوں نے یہاں آباد ہونے کا فیصلہ کیا۔ اسی قبیلے میں حضرت اسماعیلؑ کی شادی ہوئی اور انہی کی طرف ان کو نبی بنا کر مبعوث کیا گیا۔

ایک طویل عرصے تک بنی اسماعیل اپنے جد امجد حضرت اسماعیلؑ کے دین پر رہے، لیکن رفتہ رفتہ دین ابراہیمی پر ان کی گرفت کمزور ہوتی گئی۔ رسول اللہ ﷺ کی ولادت سے تین سو سال قبل یہاں بت پرستی کا چلن شروع ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ عمرو بن لحی وہ پہلا شخص ہے جس نے اس علاقے میں بت پرستی کو رواج دیا۔ یہ شخص اس علاقے میں مذہبی مقام رکھتا تھا۔ شام کے سفر کے دوران اس نے بت پرستی کے مناظر دیکھے، اس سے متاثر ہوکر وہ ’’ہبل‘‘ نامی بت سمیت مختلف چھوٹے بت شام سے مکہ لایا۔ ’’ہبل‘‘ کو اس نے بیت اللہ پر نصب کیا اور باقی بت مقامِ ابراہیم، صفا اور مروہ پر رکھ دئیے۔ عربوں میں بت پرستی بہت تیزی سے پھیل گئی۔

برائی اپنے اندر تیز رفتاری سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بڑے بتوں کے علاوہ ہر قبیلے، بلکہ ہر خاندان کا اپنا بت ہوتا۔ لوگ اپنے بتوں کو گھروں میں رکھتے، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور اس کو مشکل کشا سمجھتے۔

سیرت نگاروں نے ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے۔ حضرت عمرو بن الجموحؓ معروف انصاری صحابی تھے۔ یہ بنی سلمہ کے رؤساء میں سے تھے۔ انہوں نے گھر میں اپنا بت رکھا ہوا تھا جس کی پوجا کرتے تھے۔ اس کا نام “مناف” رکھا ہوا تھا۔ بنو سلمہ کے کچھ مسلمان نوجوان، جن میں ان کے بیٹے معاذؓ اور ان کے دوست معاذ بن جبلؓ بھی شامل تھے، نے عمرو بن الجموحؓ کے سامنے بت کی بے بسی واضح کرنے کے لئے ایک دلچسپ طریقہ اختیار کیا۔ وہ ان کے بت خانے میں داخل ہوتے، بت کو اٹھا کر گندگی کے ڈھیر پر الٹا ڈال دیتے۔ حضرت عمرو بن الجموحؓ واپسی پر بت کو صاف کرتے، خوشبو لگادیتے، لیکن وہ نوجوان صحابی دوبارہ موقع پا کر اس کو گندہ کردیتے۔

جب کئی دفعہ اسی طرح ہوا، تو حضرت عمرو بن الجموحؓ نے بت کے گلے میں تلوار لٹکا دی اور کہا کہ اپنا دفاع خود کرلینا۔ اس دفعہ ان نوجوانوں نے بت کے گلے سے تلوار اٹھا کر مردہ کتا لٹکا دیا۔ حضرت عمرو بن الجموحؓ نے جب بت کی یہ حالت دیکھی، تو اس کی بے بسی ان پر واضح ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا سینہ دین برحق کے لئے کھول دیا اور وہ مسلمان ہوگئے۔ {FR 14}

عرب مذہبی اخلاقیات میں اس قدر گراوٹ کا شکار تھے کہ اشیائے خوردونوش سے بھی بت بنانے سے دریغ نہ کرتے، بوقت ضرورت اس کو کھا بھی لیتے۔ صحرا میں پرستش کرنے کے لئے اگر کوئی پتھر دستیاب نہ ہوتا، تو عرب بدوی ریت کا ڈھیر جمع کرکے اس پر اپنی اونٹنیوں کا دودھ دوہتے تھے، پھر ریت کے اس ڈھیر کی پرستش شروع کردیتے۔ مشرقی عرب کے قبیلہ بنوحنیفہ نے آٹے اور کھجوروں سے بنا ہوا ایک اونچا مجسمہ تعمیر کررکھا تھا جس کی وہ پرستش کرتے تھے۔ لیکن قحط کے موقع پر انہوں نے اس بت کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے کھا لیا۔ {FR 15}

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *