اہلِ عرب کی اخلاقی صورتحال
عرب متضاد اخلاقی اقدار کے حامل تھے۔ ایک طرف وہ بہادر اور مہمان نواز تھے، جھوٹ سے نفرت کرتے تھے۔ جھوٹ عام طور پر بزدلی کی وجہ سے بولا جاتا ہے۔ اہلِ عرب تلوار کے دھنی تھے اور بزدلی کی ہر علامت سے دور رہتے تھے۔
دوسری جانب بے حیائی ان کے معاشرے میں عام تھی۔ قریش اپنے آپ کو کعبہ کے مجاور اور اولادِ اسماعیل ہونے کی نسبت سے ’’حُمس‘‘ کہا کرتے تھے۔ باہر سے آنے والوں پر پابندی عائد تھی کہ اپنے کپڑوں کے بجائے ’’اہلِ حمس‘‘ یعنی اہل مکہ کے کپڑوں میں طواف کریں۔ اگر یہ میسر نہ ہوں تو عریاں ہوکر طواف کرنا ہوگا۔ مرد تو ایک طرف رہے، عورتیں بھی ایک زیر جامہ کے سوا تمام کپڑے اتار کر طواف کرتی تھیں۔
ایسے ہی ایک موقع پر عریاں حالت میں کسی خاتون کے اشعار منقول ہیں:
الیوم یبدو بعضہ او کلہ۔ وما بدا منہ فلا احلہ۔
’’آج میرا ستر پورا یا اس کا کچھ حصہ ظاہر ہوگا۔ جو حصہ ظاہر ہوگا، تو میں اس کو کسی کے لئے حلال نہیں کرتی۔‘‘ { FR 24 }؎
طواف کے دوران بے ہودہ حرکات ان کے لئے اجنبی نہیں تھیں۔ ایک دفعہ مدینہ منورہ سے چند قبائل مکہ مکرمہ کسی معاہدے کے لئے آئے۔ معاہدہ طے ہونے کے بعد مدنی مہمانوں کو بتایا گیا کہ مکہ کے نوجوانوں میں یہ رسم پائی جاتی ہے کہ کعبہ کے ارد گرد طواف و عبادت کے دوران بھی وہ خوبصورت لڑکیوں سے بوس و کنار اور معاشقہ کرتے ہیں۔ ابن حبیب کے مطابق صرف اس وجہ سے اہلِ مدینہ نے وہ معاہدہ ہی توڑ دیا { FR 25 }؎۔
اساف اور نائلہ ان کے معروف بت تھے۔ ان کے بارے میں اہلِ عرب کی مذہبی داستان نہایت بے حیائی پر مبنی تھی۔ کہ یہ دونوں قبیلہ بنو جرہم کے دو جیتے جاگتے انسان تھے۔ اساف بن بغی مرد اور نائلہ بنت دیک عورت تھی۔ ان دونوں نے کعبہ میں زنا کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پتھر بنادیا۔ بعد میں اہلِ مکہ نے ان کو معبود کا درجہ دے دیا اور زمزم کے پاس نصب کیا۔ اہلِ مکہ ان کے پاس قربانی کیا کرتے تھے { FR 26 }؎۔
اگر کسی شخص کا انتقال ہوجاتا تو اس کی اولاد اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیتی۔ صحیح بخاری کی روایت میں حضرت عائشہؓ نے جاہلی معاشرے کے نکاح کے طریقے بیان فرمائے ہیں کہ عربوں میں نکاح کی چار اقسام رائج تھیں:
- ایک نکاح کا طریقہ وہی تھا جو آج اسلام میں بھی رائج ہے، یعنی پیغام نکاح، مہر اور نکاح۔
- دوسرا طریقہ نکاح استبضاع کہلاتا تھا، جس میں عورت کو کہا جاتا کہ فلاں شخص سے جماع کرو، تاکہ بچے کا نسب اعلیٰ ہو جائے۔
- تیسرا طریقہ یہ تھا کہ آٹھ دس آدمی ایک عورت سے تعلق رکھتے، پھر بچہ پیدا ہونے پر عورت کسی ایک کا نام لے دیتی اور وہی باپ قرار پاتا۔
- چوتھی قسم میں عورت سب کے لئے عام ہوتی، ان کے گھروں پر جھنڈے لگے رہتے، قیافہ شناس بچے کو کسی ایک سے منسوب کر دیتا۔
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو آپ ﷺ کے ذریعہ دورِ جاہلیت کے تمام نکاحوں کو باطل قرار دیا گیا، سوائے اس نکاح کے جو آج اسلام میں رائج ہے { FR 27 }؎۔
عربوں کے بعض قبائل میں ایک اخلاقی برائی یہ بھی تھی کہ وہ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کرتے تھے۔ اس کی کئی وجوہات تھیں: بیٹی کو بوجھ سمجھنا، غیرت کی بنیاد پر دشمن کے ہاتھ لگ جانے کا خوف، یا فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ کر اُن کے حوالے کر دینا۔
قرآن کریم اس کا نقشہ یوں کھینچتا ہے:
وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّهُوَ كَظِيْمٌ (النحل:58)
’’اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی (پیدائش) کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا رہتا ہے۔‘‘
ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی زمانہ جاہلیت میں اپنی بیٹی کو دفن کرنے کی دردناک سرگزشت بیان کرتے ہیں۔ وہ بچی فریاد کرتی رہی:
’’اے ابا جان! میری ماں کی امانت کو ضائع مت کرنا۔‘‘
لیکن بالآخر انہوں نے غیرت کے نام پر اسے کنویں میں پھینک دیا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’اگر مجھے حکم ہوتا کہ زمانہ جاہلیت کے کسی عمل پر سزا دوں تو آج تمہیں اس عمل پر سزا دیتا۔ لیکن اسلام گذشتہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔‘‘ { FR 28 }؎
عربوں کے ہاں سودی لین دین عام تھا۔ لکھنا پڑھنا نہ ہونے کے برابر تھا۔ مکہ جیسے شہر میں صرف تیرہ افراد لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ اسی پست قوم کی اصلاح کا بیڑہ نبی کریم ﷺ نے اٹھایا۔ صفر سے آغاز کیا اور محض تئیس سال کے عرصے میں اس خطے کی کایا پلٹ دی۔
یہی لوگ جو بیٹیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، عورت کے محافظ بن گئے۔ جو لکھنے پڑھنے سے دور تھے، انہوں نے دنیا بھر میں نبوی علوم پھیلائے۔ بے حیائی میں ڈوبے ہوئے لوگ حیا کے علمبردار بن گئے۔ قتل کے عادی لوگ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھنے لگے۔ لوٹ مار کرنے والے افراد غیر مسلموں تک کے جان و مال کے پاسبان بن گئے۔
یہ انقلاب اتنے قلیل عرصے میں برپا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے کوہِ صفا پر دعوت دی تھی، اور تئیس سال بعد میدانِ عرفات میں حج کے موقع پر اپنے مشن کی تکمیل کی گواہی صحابہ سے لی۔ اللہ تعالیٰ نے بھی آیتِ تکمیل نازل کر کے اس پر مہر ثبت کر دی۔ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وسلم۔
یہ درسِ حدیث ہماری مضامینِ سیرت کی کتاب سے اپلوڈ کیے جا رہے ہیں، جن میں سے ایک مضمون آج مکمل ہو گیا ہے۔
اگلی پوسٹ میں ہم مضمون نمبر 2 کا آغاز کریں گے، ان شاء اللہ۔
