نبی کریم ﷺ کے آباؤ اجداد
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی:
رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّكَ۰۠
(البقرۃ: ۱۲۸)
’’اے ہمارے پروردگار! ہم دونوں کو اپنا مکمل فرماں بردار بنا لے اور ہماری نسل سے بھی ایسی امت پیدا کر جو تیری پوری تابع دار ہو۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے ظاہر کرنا تھا کہ ان کی اولاد کا ایک طبقہ ان کے دین پر عمل پیرا رہتا۔ اولاد ابراہیمی میں نبی کریم ﷺ کے اجداد عالی مرتبت تھے۔
ایک روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولادِ اسماعیل میں کنانہ کو منتخب کیا۔ کنانہ میں سے قریش کا انتخاب کیا۔ قریش میں سے بنی ہاشم کا، اور بنو ہاشم میں سے میرا انتخاب کیا۔ اولاد ابراہیمی میں رسول اللہ ﷺ کے اجداد دعائے ابراہیمی کا محل بننے اور دین ابراہیمی پر عمل پیرا رہنے کے زیادہ مستحق تھے۔ رسول اللہ ﷺ سے اپنے آباؤ اجداد اور نسب پر فخر کرنا ثابت ہے۔ غزوہ حنین کے موقع پر آپ ﷺ یہ رجز پڑھ رہے تھے:
انا النبی لا کذب۔ انا ابن عبدالمطلب۔
’’میں نبی ہوں، اس میں کوئی جھوٹ نہیں۔ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔‘‘
مولانا ادریس کاندھلوی لکھتے ہیں:
’’حضور اکرم ﷺ کے تمام آباؤ اجداد اپنے اپنے زمانہ کے عقلاء اور حکماء اور سادات عظام اور قائدین کرام تھے۔ فہم و فراست، حسن صورت اور حسن سیرت، مکارم اخلاق اور محاسن اعمال، حلم اور بردباری اور جود و کرم و مہمان نوازی میں یکتائے زمانہ تھے۔ ہر عزت و رفعت اور سیادت و وجاہت کے ماویٰ اور ملجا تھے۔ اور سلسلہ نسب کے آباء کرام میں بہت سوں کے متعلق احادیث مرفوعہ اور اقوال صحابہ سے معلوم ہوچکا کہ دین ابراہیمی پر تھے۔ اور جن آباؤ اجداد کے ملتِ ابراہیمی پر ہونے کی احادیث میں تصریح نہیں، ان کے احوال ان کے صحیح الفطرت اور سلیم الطبیعت ہونے پر صراحۃً دلالت کرتے ہیں۔‘‘
آپ ﷺ کے اجداد میں سے کعب بن لوئی نہایت صاحب بصیرت سمجھے جاتے تھے۔ یہ ہر جمعہ کے دن قریش کو جمع کرتے، ان کو نماز پڑھاتے، خطبہ دیتے، اور خطبہ میں ان کو اطاعت کا درس دیتے۔ زمین و آسمان کی تخلیق اور دن رات کی گردش پر غور و فکر کی دعوت دیتے۔ صلہ رحمی اور حسن اخلاق کی نصیحت کرتے۔ نیز نبی آخر الزمان کی بشارت بھی دیتے۔
خاندان بنی عبد مناف کے بانی اور نبی کریم ﷺ کے جد اعلیٰ عبد مناف بن قصی (جن کا اصل نام مغیرہ تھا) لوگوں کو خوفِ خدا اور صلہ رحمی کا درس دیا کرتے۔
نبی کریم ﷺ کے دادا جناب عبدالمطلب کے بارے میں سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ وہ توحیدِ الٰہی کے قائل اور دین ابراہیمی کے پیروکار تھے۔ ان کے اوصافِ عالیہ کی وجہ سے قریش نے ان کو ’’ابراہیم ثانی‘‘ کا لقب دیا تھا۔ ایفائے نذر، چور کا ہاتھ کاٹنا، دیت میں سو اونٹوں کی ادائیگی، تحریمِ خمر، تحریمِ زنا سمیت ان کے بہت سارے اخلاق عالیہ کو شریعت اسلامی نے اپنا کر قانونی سند عطا کی۔
اس تمام تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ عرب کا چھوٹا سا خطہ مختلف مذاہب کی آماجگاہ تھا۔ یہودیت، عیسائیت کے علاوہ یہاں کے ماحول پر بت پرستی کا غلبہ تھا۔ البتہ کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو دینِ ابراہیمی کا علم بلند کئے ہوئے تھے۔
