مفہوم حدیث
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوت جائے تو ایک جوتا پہن کر چلنے پھرنے سے پرہیز کرے جب تک دوسرا جو ٹھیک نہ ہو جائے. اور کوئی شخص ایک موزہ پہن کر نہ چلے اور نہ کو شخص بائیں ہاتھ سے کھانا کھائے اور ایک لباس میں اپنے جسم کو لپیٹ نہ لے.
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو جہاں عبادات کا طریقہ سکھایا وہاں آپ ﷺ نے روز مرہ کی زندگی کے بظاہر معمولی امور کے متعلق بھی رہنمائی فرمائی ہے. ایک باوقار زندگی کیسے بسر کی جائے اور معاشرے میں انسان کون سے ایسے کام کرے جن کی وجہ سے اسے معاشرتی عزت حاصل ہو ان تمام امور کی نشاندہی رسول للہ ﷺ نے اپنے مختلف فرامین میں فرمائی ہے
نبی کریم ﷺ کا ایک فرمان ہے کہ
إنما انا لكم بمنزلة الوالد، اعلمكم،
” میں تمہارے لیے ایسا ہوں جیسے والد ہے تمہیں مختلف چیزیں سکھاتا ہوں “
\جو روایت آج پڑھی گءی اس میں کچھ بنیادی چیزیں نبی کریم ﷺ نے تعلیم فرمایٴ ہیں اگر کویٴ آدمی راستے میں جوتا پہن کر چل رہا ہو یا ایک موزہ پہن کر چل رہا ہو تو یہ وقار سے گری ہوءی حرکت ہے،اور لوگ بھی اس کو عضیب نگاہوں سے دیکھے گے۔اس لیے حضور اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ ایک جوتا پہن کر نہ چلو اگر کسی آدمی کا کویٴ عذر ہے کہ ایک جوتا ٹوتا ہوا ہے تو اسے چاہیے کہ اس جوتے کی فری طور پر مرمت کرواے اور دونوں جوتے پہن کر بازار یا گلی میں جاےاسی طرح اگر کسی کے پاس ایک موزہ ہےاور دوسرا نہیں ہے تو اسے چاہیے کہ موزے یا جرابیں نہ پہنے اگر جرابیں پہنی ہو تو دونوں پاوں میں جرابیں ہونی جاہیےتا کہ مسلمان کو تمام لوگ وقار کی نگاہ سے دیکھیں۔
بایں ہاتھ سے کھانے سے منع فرمایا دایں ہاتھ سے کھان انبی کریمﷺ کی سنت ہے۔اسی طرح اگر کوی ٴ آدمی اپنا پورا جسم ایک کپڑے میں لپیٹتا ہےیہ بھی نہ پسندیدہ ہے۔ کیونکہ اگر اس طریقے سے جسم لپیٹا جاے تو بعض اوقات ستر کھلنے کا مکان ہوتا ہےاس لیے نبی کریم ﷺ نے امت کو ہدایت فرمای کہ ایک کپڑا پورے جسم پر نہ لپیٹا جاے اور کپڑے پہننے میں اس چیز کا اہتمام کیا جاےکہ انسان کا ستر کھلنے سے محفوظ رہے۔ یہ بڑی بنیادی باتیں ہیں جو انسان کو معاشرےمیں عزت وقار دلاتی ہیں۔
