مفہوم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کے یا اللہ مجھے مسکین بنا کر زندہ رکھیے اور مسکنت کی حالت میں مجھے دنیا سے اٹھ آئے اور میرا حشر مساکین کی جماعت میں فرمائے
تشریح
دنیا میں زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں ایک طریقہ تویہ ہے آدمی دنیاوی اسباب اختیار کرکے آرام و آسائش کی زندگی بسر کرے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ فقر و درویشی کی زندگی بسر کرے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے لئے فقر اور ذہد کو اختیار فرمایا تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری حیات طیبہ فقر و درویشی میں گزاری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فقر و درویشی خود اختیاری تھا۔ چنانچہ ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ اگر مجھے تلاش کرنا ہو تو مساکین کی جماعت میں تلاش کرو اور تم لوگوں کو اپنے کمزوروں اور مسکینوں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے
اب ان روایات کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں کیا سبق ملتا ہے آپ پہلے تو یہ سمجھ لیجئے کہ ہمارا ایمان کمزور ہے ہم شاید فقر کی زندگی میں اچھے طریقے سے زندگی بسر نہ کر سکیں اس لیے ہمارے لیے یہی طریقہ کار زیادہ مناسب ہے کہ ہم دین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے لیے سہولیات اور آسائشیں تلاش کریں البتہ ان روایات سے ہمیں دو سبق ملتے ہیں پہلا سبق یہ ملتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے اس باب میں برکت نہ ہو سکے اور ہمیں تنگی کا سامنا کرنا پڑے تو آدمی کے دل میں اضطراب و بے چینی نہیں ہونی چاہیے اس لئے تو انسان نے اسباب اختیار کرنے ہیں اور اس باب میں برکت ڈالنا اور اچھے نتائج فراہم کرنا یہ اللہ تعالی کے اختیار میں ہے چنانچہ آپ دیکھتے ہیں کہ دو آدمی ایک جیسی دکان بنا لیتے ہیں محنت بھی کرتے ہیں لیکن بعض اوقات ایک کی دکان چل پڑتی ہے اور دوسرے کی نہیں چلتی لہذا یاد رکھیے کہ میں نے اور آپ نے اسباب تیار کرنے ہیں مگر ان میں برکت ڈالنا اللہ تعالی کا کام ہے کہ نتائج اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں اگر اسباب اختیار کرنے اور محنت کرنے کے باوجود بھی فکر و مالی تنگی ہو تو اس کی وجہ سے دل میں تنگی اور اضطراب نہیں آنا چاہیے
اور دوسرا سبق یہ ملتا ہے کہ ہمیشہ فقیروں اور مسکینوں سے محبت رکھنی چاہیے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کہ تم لوگوں کو اپنے متعلقین اور کمزور لوگوں کی وجہ سے رزق دیا جاتا ہے اگر آپ اللہ تعالی نے مالی طور پر وسعت دے رکھی ہے تو آپ کا فرض ہے کہ اپنے محلے خاندان اپنے معاشرے کے مسکینوں گروہ کو تلاش کرے اور ان کی خدمت کے اپنے لیے سعادت سمجھیں
