ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا کھانے کا حکم

toota-bartan-khana

مفہوم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی پینا اور برتن میں سانس لینا منع ہے

تشریح

اگر برتن ٹوٹ جائے تو اس میں کھانے پینے کا کیا حکم ہے اس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو قسم کی روایات منقول ہیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بات ازواج میں سے کسی کے ہاں تشریف فرما تھے اور ایک روایت میں حضرت عاءشہ کا نام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ کے ہاں تشریف فرما تھے تو دوسری طرف آ کے گھر سے ایک رکابی یعنی ایک پلیٹ میں کچھ کھانا آیا اگر عشق کو یہ ناگوار گزرا کے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاتھ شریف فرما ہیں تو دوسری زوجہ کے ہاں سے کھانا کیوں آیا انہوں نے ناگواری میں ہاتھ مار کر پلیٹ گرا دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے کہ تمہاری اماں جان کو غیرت آ گئی پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹی ہوئی پلیٹ کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھایا ان کو اکٹھا کیا اور جو تھا انہوں نے اسی ٹوٹی ہوئی پلیٹ میں سے کھانا کھایا
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر برتن ٹوٹ بھی جائے تو اس میں سے کھانا کھایا جا سکتا ہے

جبکہ دوسرے روایت سنن ابی داؤد کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹے ہوئے پیالے میں سے پانی پینے سے منع فرمایا اب ان دونوں روایات کو ملا کر چند باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ اگر پلیٹ ٹوٹ جائے تو انسان اس میں سے کھا سکتا ہے لیکن ٹوٹی ہوئی چیز میں سے کھانے کو اپنی عادت بنانا معمول بنانا انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے کیونکہ جس پلیٹ یا برتن میں ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہو اس کو درست طریقے سے دھونا مشکل ہے شکستگی کے مقام پر میل کچیل جمع ہو جاتا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھانے کی جو روایات منقول ہیں وہ ایک ہی مرتبہ کی ہیں کہ وہ پلیٹ ٹوٹی اور فوری طور پر نبی کریم صل وسلم نے اس کو جوڑ کر اس میں سے کھانا کھایا دوبارہ اس میں کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول نہیں ہوئی کا تعلق زیادہ تر پینے سے ہے اگر یا گلاس ٹوٹ جائے تو ٹوٹے ہوئے حصے میں سے پینا اس کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے

ایک اہم بات یہ ہے کہ اس قسم کے احکامات کا تعلق شریعت سے نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ احکامات شریعت کا حصہ بناکر ارشاد نہیں فرمائے بلکہ امت پر شفقت کے پیش نظر بطور مشورہ کے ارشاد فرمائیے ان احکامات پر اگر انسان عمل کرنے کی پوزیشن میں ہو تو اسے چاہیے عمل کر لیکن اگر مجبوری ہو کہ ٹوٹی ہوئی پلیٹیں ایک ٹوٹے ہوئے برتن میں کھانا پڑ جائے تو وہاں گنجائش ہوتی ہے شریعت کے ہر حکم کو اس کے محل وقوع پر رکھنا چاہیے اور جس نے اس سے یہ بات ارشاد فرمائی ہو اسی نسبت سے اس بات کو لینا چاہیے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *