مفہوم
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اعمال میں سے وہ عمل صالح پسند تھا جس کو انسان پابندی کے ساتھ انجام دےچاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو
تشریح
انسان جو اعمال کرتا ہے وہ دو قسم کے ہیں کچھ اعمال فرائض کے زمرے میں آتے ہیں جن کو مکمل کرنا انسان کی مجبوری ہےاور دوسری قسم کے اعمال وہ ہیں جو نوافل کے زمرے میں آتے ہیں جیسے نفل نماز ، ذکر تلاوت وغیرہ جن کا شمار فرائض کے درجے میں تو نہیں البتہ مستحبات یا نوافل کے زمرے میں آتا ہے. انسان جب یہ اعمال کرتا ہے تو اس کا اللہ سے تعلق اور مضبوط ہوتا ہے.اور اس کے نامہ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا ہے.
نوفل کے درجے کی عبادت جو انسان اپنی مرضی سے کرتا ہےاس میں شریعت کا مزاج یہ ہے کہ چاہےآپ کم کریں لیکن مستقل کریں چنانچہ روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پوچھا جاتا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرماتے کہ پسندیدہ عمل وہ ہے جو تم مستقل کرو
معلوم ہوا کہ ہمیں تلاوت میں نوافل میں سے ذکر اذکار میں سے ان کو اعمال کو اختیار کرنا چاہیے جو ہم پابندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ کریں. بلخصوص ان دنوں میں جب رمضان کو گزرے چند ہی دن ہوئے ہیں رمضان میں انسان اپنے آپ کو مختلف قسم کے نوافل ذکر اذکار اور تلاوت کا پابند کرتا ہے.پابندی کے ساتھ انسان پورا مہینہ ان اعمال کو کرتا ہے. تو ضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان کے بعد ان اعمال کا دائرہ کار اپنے ایام تک بڑھایا جائے. اللہ مجھے اور آپ کو مستقل مزاجی کے ساتھ ان اعمال کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
