میدانِ محشر میں رسول اللہ ﷺ کی امامت
میدانِ محشر میں مخلوق کی پریشانی اپنی انتہاء پر ہوگی، اور اللہ تعالیٰ کا غضب و رعب بھی عروج پر ہوگا۔ اس پریشانی کے عالم میں لوگ حضرتِ آدمؑ کی خدمت میں عرض گزار ہوں گے: اے سیدنا آدم! آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، آپ میں اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اور آپ کو جنت میں سکونت بخشی؛ کیا آپ ہمارے لیے اپنے ربّ کی بارگاہ میں شفاعت فرمائیں گے؟ کیا آپ نہیں دیکھتے ہم کس کرب میں ہیں؟
حضرتِ آدمؑ فرمائیں گے: آج میرے ربّ نے ایسا غضب فرمایا ہے کہ نہ پہلے فرمایا، نہ آئندہ فرمائے گا۔ مجھے ایک درخت کے پھل سے روکا گیا تھا تو مجھ سے لغزش ہوئی؛ مجھے اپنی جان کی فکر ہے، تم کسی اور کے پاس جاؤ؛ تم حضرتِ نوحؑ کے پاس چلے جاؤ۔ لوگ حضرتِ نوحؑ کی بارگاہ میں عرض کریں گے: اے سیدنا نوح! آپ اہلِ زمین کے سب سے پہلے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام عبدًا شکورًا رکھا؛ کیا آپ ہماری شفاعت فرمائیں گے؟ وہ بھی عذر کریں گے اور لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے پاس بھیج دیں گے۔
لوگ جب میرے (نبی کریم ﷺ) پاس آئیں گے تو میں عرش کے نیچے سجدہ کروں گا اور (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) فرمایا جائے گا:
اے محمد! اپنا سر (مبارک) اُٹھائیں، شفاعت کریں آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی، مانگیں آپ کو عطا کیا جائے گا۔ { FR 36 }؎
دوسری روایت میں یہ ترتیب مزید وضاحت سے مذکور ہے کہ حضرتِ آدمؑ لوگوں کو حضرتِ نوحؑ کے پاس بھیجیں گے؛ وہ عذر کریں گے اور حضرتِ ابراہیمؑ (خلیلُ اللہ) کے پاس بھیجیں گے؛ وہ بھی انکار کریں گے اور حضرتِ موسیٰؑ (کلیمُ اللہ) کے پاس بھیجیں گے؛ پھر حضرتِ موسیٰؑ، حضرتِ عیسیٰؑ (روحُ اللہ) کے پاس بھیجیں گے؛ حضرتِ عیسیٰؑ لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے پاس بھیج دیں گے؛ اور نبی کریم ﷺ اللہ کے دربار میں شفاعت فرمائیں گے۔ { FR 37 }؎
ابنِ حِبّان کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
میں ساری اولادِ آدم کا سردار ہوں (اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا)، سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی، میں ہی سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میری ہی شفاعت سب سے پہلے قبول ہوگی۔ میرے ہاتھ میں (اللہ تعالیٰ کی) حمد کا جھنڈا ہوگا، جس کے نیچے حضرتِ آدمؑ اور تمام انبیاءؑ ہوں گے۔
{ FR 38 }؎
یوں میدانِ حشر میں تمام انبیاء کرامؑ کی موجودگی میں رسول اللہ ﷺ کے یہ منفرد اعزازات—مقامِ محمود، لواءِ الحمد، اوّلین شفاعت اور قبولیتِ شفاعت—آپ ﷺ کی امامتِ عُظمیٰ کے روشن آثار ہیں۔
