نبی کریم ﷺ کے امام الانبیاء ہونے کے شواہد
عبدیتِ کاملہ
انبیاء کرامؑ لوگوں کے لئے عبدیتِ الٰہی کے باب میں نمونہ اور مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انبیاء کرامؑ کی مقدس جماعت میں نبی کریم ﷺ کو عبدیت کاملہ کا منصب عطا ہوا۔
جس پر شاہد قرآن کریم کی یہ آیت ہے:
سُبْحٰنَ الَّذِيْٓ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِيْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِيَهٗ مِنْ اٰيٰتِنَا ۭ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۔
(بنی اسرائیل: 1)
’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بیشک وہ ہر بات سننے والی، ہر چیز دیکھنے والی ذات ہے۔‘‘
اس آیت میں باری تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی عبدیت کی نسبت اپنی جانب فرمائی ہے۔
اگرچہ ایک دوسرے مقام پر قرآن کریم میں حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں بھی بیان ہے:
قَالَ اِنِّىْ عَبْدُ اللّٰهِ اٰتٰىنِيَ الْكِتٰبَ وَجَعَلَنِيْ نَبِيًّا۔
(مریم: 30)
’’(اس پر) بچہ بول اٹھا کہ : میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے، اور نبی بنایا ہے۔ ‘‘
لیکن یہ حضرت عیسیٰؑ کا اپنا قول ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اگر کسی کی عبدیت کی نسبت اپنی جانب کی ہے تو وہ واحد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے۔
گویا معبود کامل کے عبد کامل کے منصب پر رسول اللہ ﷺ فائز ہیں۔
بعض اہل نظر کے بقول دنیا کی تخلیق کا ایک مقصد معبودیتِ باری تعالیٰ کا اظہار ہے،
تو دوسرا مقصد جناب نبی کریم ﷺ کی عبدیت کاملہ کا انکشاف ہے۔
کنز العمال کی یہ روایت دیکھئے:
حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ جبرائیلؑ میرے پاس آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اے محمد! اگر میں آپ کو پیدا نہ کرتا تو جنت اور دوزخ کا وجود بھی نہ ہوتا۔ {FR 35}؎
اس مضمون کی دیگر روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معبود کامل نے اپنے عبد کامل کا منصب نبی کریم ﷺ کو عطا فرمایا۔
اور ان کی اس صفت کے اظہار کے لئے دنیا کو وجود بخشا گیا۔
ظاہر ہے کہ انبیاء کرامؑ کی عبادِ کاملہ پر مشتمل جماعت کی امامت کا منصب ایسی شخصیت کو عطا ہونا تھا جو اس صفت میں ان سے کہیں آگے ہو۔
