مضمون نمبر2
رسول اللہﷺ بحیثیتِ امام الانبیاء
نبی کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے آفاقی اور عالمگیر نبوت سے سرفراز فرمایا تھا۔ آپ ﷺ کی نبوت کی تاریخ حضرت آدمؑ کی بعثت سے بھی قدیم ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ:
’’میں تمام لوگوں کی جانب مبعوث کیا گیا ہوں‘‘۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ محض اپنے زمانے کے لوگوں سے لے کر قیامت تک آنے والوں کے نبی ہیں، بلکہ حضرت آدمؑ کے دور سے لے کر دنیا کے آخری انسان تک تمام لوگ آپ ﷺ کی نبوت میں داخل ہیں { FR 2371 }؎۔
امام ترمذی نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا:
یا رسول اللہ! متیٰ کنت نبیا؟
’’آپ ﷺ نبی کب بنے؟‘‘
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
کنت نبیا و آدم بین الروح والجسد۔ { FR 29 }؎
’’میں اس وقت نبی تھا جب آدمؑ اپنی روح اور جسم کے درمیان تھے۔‘‘
یعنی ان کی تخلیق ابھی تک نامکمل تھی اور میں نبی تھا۔ اس مضمون کی دیگر روایات بھی موجود ہیں { FR 30 }؎۔
علامہ انور شاہ کشمیریؒ اس روایت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
كان النبي نبياً وجرت عليه أحكام النبوة من ذلك الحين بخلاف الأنبياء السابقين، فإن الأحكام جرت عليهم بعد البعثة كما قال مولانا الجامي أنه كان نبياً قبل النشأة العنصر۔ { FR 32 }؎
’’رسول اللہ ﷺ حضرت آدمؑ کی تخلیق سے قبل نبی تھے۔ ان پر نبوت کے احکام جاری تھے، جبکہ دیگر انبیاء کرامؑ پر نبوت کے احکامات بعثت کے بعد جاری ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مولانا جامی فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ عنصری وجود سے پہلے نبی تھے۔‘‘
اس روایت سے واضح ہوا کہ نبی کریم ﷺ پر بعثت بلکہ پیدائشِ حضرت آدمؑ سے بھی پہلے نبوت کے احکامات جاری تھے۔ بالفرض اگر کسی نبی کے دور میں آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوجاتی تو اس نبی کو آپ ﷺ کی اطاعت ناگزیر ہوتی۔
یہ روایت اس کی شاہد ہے:
لَوْ أَنَّ مُوسَى كَانَ حَيًّا، مَا وَسِعَهُ إِلَّا أَنْ يَتَّبِعَنِي۔ { FR 33 }؎
’’اگر آج موسیٰؑ بقیدِ حیات ہوتے تو ان کے پاس میری اتباع کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔‘‘
بعض روایات میں رسول اللہ ﷺ کو کائنات کی سب سے پہلی تخلیق قرار دیا گیا ہے۔ ان کا حاصل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی حقیقت تخلیقِ آدم سے قبل بھی موجود تھی۔ حضرت آدمؑ کی تخلیق کے ساتھ ہی یہ حقیقتِ محمدیہ ان کی صلب میں منتقل ہوئی۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اجداد میں یکے بعد دیگرے یہ نور منتقل ہوتا رہا۔
یہی حقیقت جب جسم کی صورت میں ظاہر ہوئی اور علم ِ الٰہی میں طے شدہ مدت تک پہنچی تو اس کو وصفِ نبوت سے سرفراز فرمایا گیا۔ سیرت نگار یہاں ایک ایمان افروز نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ یہ نورِ محمدی حضور اکرم ﷺ کے اجداد میں منتقل ہوتا تو ان کی جبین پر چمکتا۔ اہلِ نظر پہچان جایا کرتے کہ یہ ہستی نورِ محمدی کو لئے ہوئے ہے۔
نبی کریم ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم کے بارے میں منقول ہے کہ نورِ محمدی ان کے چہرے پر بہت وضاحت کے ساتھ چمکا کرتا۔ علماء بنی اسرائیل اس کو دیکھ کر حضرت ہاشم کے ہاتھ چومتے، ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اور اپنی بیٹی تک کا رشتہ قبول کرنے کی درخواست کرتے، تاکہ خاندانِ نبوت کے ساتھ ان کا اتصال ہوسکے۔
اس زمانے کی عیسائی ریاست روم کے شاہ ہرقل نے باقاعدہ خط لکھ کر جناب ہاشم کو اپنی شہزادی کا رشتہ قبول کرنے کی استدعا کی تھی { FR 34 }؎۔
