رومی سلطنت
رومی سلطنت پر مسیحیت کا تسلط تھا۔ دینِ مسیح انسانی زندگی کی مکمل رہنمائی کے لیے ناکافی تھا۔ حضرت عیسیٰؑ نے اخلاقیات کے میدان میں اپنی قوم کی رہنمائی فرمائی تھی، مگر سینٹ پال کی آمد کے بعد دینِ عیسوی کا بنیادی ڈھانچہ ہی بدل گیا۔ حضرت عیسیٰؑ کی سادہ اور فطری تعلیمات کا وجود تقریباً ختم ہو کر رہ گیا۔ جو دین انسان کی جزوی رہنمائی کے لیے آیا ہو، اگر اسے ایک مکمل سلطنت کا آئین و قانون بنا دیا جائے تو عبرتناک نتائج یقینی ہیں۔
رومی عیسائیوں میں مذہب سے متعلق کلامی مباحث ابھر آئے۔ حضرت عیسیٰؑ کی فطرت اور الٰہ ہونے کے بارے میں مناظرے ہونے لگے۔ سرکاری طور پر جو مؤقف تسلیم کیا جاتا، اسے رائج کرنے کے لیے حکومتی جبر کا بے دریغ استعمال کیا جاتا۔ مخالف عقیدہ رکھنے والوں کو ایسی وحشت ناک سزائیں دی جاتیں جن کے تصور سے ہی روح کانپ اٹھتی۔
پورے معاشرے میں ہوس اور لالچ کا رواج تھا۔ زیادہ سے زیادہ مال کمانا ہر شخص کا مقصد بن گیا تھا۔ حکومت اپنی عیش و عشرت کے لیے عوام پر دوگنا محصول عائد کرتی، جس کی وجہ سے عوام حکومت سے نالاں تھے۔ نتیجتاً بڑے فسادات اور بغاوتیں رونما ہوئیں۔ 1532ء کی بغاوت میں تیس ہزار افراد دارالسلطنت میں ہلاک ہوگئے۔
اخلاقی گراوٹ کا یہ عالم تھا کہ لوگ تجرد کی زندگی کو ترجیح دینے لگے تاکہ ازدواجی بندشوں سے آزاد ہو کر کھل کر بے حیائی کا کھیل کھیل سکیں۔ ان مذہبی اختلافات اور اخلاقی بگاڑ نے پورے ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دیا۔
