مہمان کا اکرام — درس حدیث

mehmaan-ka-ikram

(34) وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ۔

(مسلم، مسلم بن حجاج القشیری، م: 261ھ، صحیح المسلم، رقم الحدیث 74، ص: 1/68، دار احیاء التراث العربی، بیروت)

مفہوم حدیث: حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ مہمان کا اکرام کرے۔

تشریح:

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایک دوسرے کے حقوق مقرر کیے ہیں، اور ان میں سے ایک اہم حق مہمان نوازی ہے۔ اگر کوئی مہمان آپ کے پاس آتا ہے، تو اس کا حق ہے کہ آپ اس کا احترام کریں اور اس کی خدمت کریں۔

شریعت ہمیں اس بات کا پابند نہیں بناتی کہ ہم مہمان کے لیے اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کریں یا تکلفات میں پڑیں، بلکہ فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ میسر ہو، وہی پیش کریں۔ حضرت سلمان  کی روایت ہے:

نَهَانَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ أَنْ نَّتَكَلَّفَ لِلضِّیْفِ مَا لَيْسَ عِنْدَنَا۔
(مجمع الزوائد: 13629)

یعنی “نبی کریم ﷺ نے ہمیں منع فرمایا کہ مہمان کے لیے ایسا بوجھ نہ اٹھائیں جو ہمارے پاس موجود نہ ہو۔”

حضرت سلمان فارسی  کے پاس مہمان آئے تو انہوں نے جو کچھ گھر میں موجود تھا، وہی پیش کیا۔ روایت میں ہے کہ انہوں نے روٹی کے ساتھ نمک پیش کیا اور فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے تکلفات سے منع فرمایا ہے۔ مہمان نے نمک میں ڈالنے کے لیے مزید چیز مانگی جو گھر میں نہیں تھی، تو حضرت سلمان  نے اپنا وضو کا برتن سبزی والے کے پاس رہن رکھوا کر اس کی طلب پوری کی۔ اس کے بعد مہمان نے دعا کی، تو حضرت سلمان  نے جواب دیا کہ اگر تم قناعت کرتے تو میرا برتن رہن نہ رکھوانا پڑتا۔

(مستدرک حاکم: 7146)

اس واقعے سے سیکھنے کا سبق یہ ہے کہ مہمان کو چاہیے کہ جو کچھ بھی میزبان پیش کرے، اسے خوش دلی سے قبول کرے اور کسی طرح کی شکایت نہ کرے۔ اسی طرح میزبان کو بھی چاہیے کہ مہمان کی عزت کرے اور استطاعت کے مطابق اس کا اکرام کرے۔

اگر ان تعلیمات پر عمل کیا جائے تو معاشرے میں محبتیں پروان چڑھتی ہیں، تعلقات مضبوط ہوتے ہیں، اور اسلامی معاشرت میں خوشگواری آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنی میں مہمان نوازی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *