(12) عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُسْرٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ إِنَّ شَرَائِعَ الإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيَّ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ، قَالَ: ’’لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللہِ۔‘‘
(ترمذی، محمد بن عیسیٰ الترمذی، م: 279ھ، سنن الترمذی، رقم الحدیث 375، ص: 457، ج: 5، ناشر: شرکہ مکتبہ المطبعہ مصطفیٰ البابی، مصر، ط: الثانیہ 1395ھ)
مفہوم حدیث: حضرت عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسلام کی تعلیمات تو بہت زیادہ ہیں، آپ مجھے کوئی ایسی بات بتائیں جس پر میں مضبوطی سے قائم رہوں۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہاری زبان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔
تشریح:
اللہ تعالیٰ کی بندگی کا اصل مقصد اس کو یاد کرنا اور اس کے ذکر میں مشغول رہنا ہے۔ ذکرِ الٰہی شریعت کی تمام تعلیمات کا خلاصہ اور روح ہے۔ اس کا سب سے آسان اور موثر طریقہ زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا، اس کے اسماء کا ورد کرنا، اور اس کی حمد و ثناء کرنا ہے۔
جیسا کہ اس حدیث میں صحابی نے سوال کیا کہ اسلام کے احکام تو بہت زیادہ ہیں، ایسی کوئی بات بتائیے جس کو مضبوطی سے تھام سکوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ زبان ہمیشہ اللہ کے ذکر سے تر رکھو۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ اللہ کا ذکر انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور دل کو سکون بخشتا ہے۔
قرآن کریم میں بھی بار بار ذکر کی ترغیب دی گئی ہے، جیسے فرمایا:
وَاذْكُرُوا اللہَ كَثِيرًا۔
(سورۃ الجمعہ: ۱۰)
یعنی “اللہ کو کثرت سے یاد کرو۔”
ایک اور جگہ فرمایا: اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو۔
ان آیات اور احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کو ہر حالت میں، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، اللہ کا ذکر جاری رکھنا چاہیے۔ مزید یہ کہ مستقل طور پر دن یا رات میں کچھ وقت خاص طور پر ذکر کے لیے مقرر کرنا بھی نہایت اہم ہے، چاہے وہ صرف دس یا پندرہ منٹ ہی کیوں نہ ہو۔ تنہائی میں بیٹھ کر دلجمعی کے ساتھ ذکر کرنے سے دل منور ہوتا ہے، عبادت میں لذت ملتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرا تعلق قائم ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان کو ہمیشہ ذکرِ الٰہی سے تر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
