نبی کریم ﷺ کا طرز زندگی
(9) عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ:
“مَا شَبِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ۔”
(ترمذی، محمد بن عیسی الترمذی، م:279ھ، سنن الترمذی، رقم الحدیث: 4/2357، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي، مصر، ط: الثانية، 1395 ھـ)
مفہوم حدیث:
حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی مسلسل سیر ہو کر جو کی روٹی نہیں کھائی۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دنیا سے پردہ فرما گئے۔
تشریح:
نبی کریم ﷺ اللہ تبارک وتعالیٰ کے حبیب تھے۔ آپ ﷺ ایک اشارے پر احد پہاڑ کو اللہ تعالیٰ سونے میں تبدیل فرما سکتے تھے۔ لیکن نبی ﷺ نے عیش و آرام پر زہد اور فقر کو ترجیح دی۔
آپ ﷺ کے فقر کا یہ عالم تھا کہ گندم کی روٹی کھانا تو دور کی بات ہے، جو کی روٹی بھی آپ ﷺ نے کبھی دو دن لگاتار نہیں کھائی۔ اور یہ آپ ﷺ کے بارے میں آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے۔
چنانچہ ایک اور روایت میں نبی کریم ﷺ کے زہد اور فقر کی ایک اور مثال ملتی ہے۔ کہ غزوہ خندق کے موقع پر کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے۔ وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھوک سے پریشان ہو کر نبی ﷺ کے پاس شکایت کے لئے حاضر ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے اپنے پیٹ مبارک سے کپڑا اٹھا کر دکھایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دیکھا کہ حضور اکرم ﷺ کے مبارک پیٹ پر ایک کی بجائے دو پتھر بندھے ہوئے ہیں۔ (ترمذی: 2371)
اتنی بھوک سرکار دو عالم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں برداشت کی۔ آج میں اور آپ اپنی زندگی کا جائزہ لیں، تو ہمیں تین وقت گندم کی روٹی ملتی ہے۔ اور ایک وقت کا کھانا کچھ آگے پیچھے ہو جائے، تو ہم صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔
ایسے مواقع پر جب انسان کے رزق میں تنگی ہو، یا اور کوئی مالی پریشانی درپیش ہو تو اپنے نبی کریم ﷺ کے زُہد اور فقر سے بھرپور حیات طیبہ کو یاد کرنا چاہیے۔ اسی لئے میں اکثر گزارش کرتا رہتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ایک مسلمان میں صبر پیدا کرتی ہے اور ایک مسلمان میں برداشت کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔
اللہ جل جلالہ مجھے اور آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
