اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ العَالَمِيْن وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْن وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُوْلِهِ مُحَمَّد وَ عَلَى اَلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ وَعَلى مَنْ تَبِعَهُمْ بِاِحْسَانِ اِلَى يَوْمِ الدِّيْنِ اَمَّا بَعْدْ فَاَعُوْذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ
وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ (اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی)
بزرگان محترم اور میرے عزیر دوستو اور بھائیو!
اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اسے مختلف قسم کی صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا۔ انسان کو اللہ تعالی نے جسمانی اور ذہنی اتنی صلاحیتیں اور طاقتیں عطا فرمائی ہیں کہ ایک طرف اس نے زمین اور سمندر کی گہرائیوں کو مسخر کیا اور دوسری طرف فضا کے وسعتوں کو اپنا تابع بنایا ہے۔ کائنات کے مختلف چھپے ہوئے راز ہر نت نئے دن انسان جاننے کی کوشش میں ہے اور بہت ساری کوششوں میں کامیاب بھی ہے۔ تو یہ انسان کی طاقت کی صورتحال ہے۔ لیکن دوسری طرف اللہ نے انسان کو لاچار بھی بنایا ہے۔ کہ انسان کہ انسان مجبور ہے۔ وہ بیماری کو برداشت نہیں کر سکتا۔ وہ موسم کی سردی اور گرمی اور مختلف قسم کے جو مصائب دنیا میں پیش آتے ہیں انسان اسے متاثر ہوتا ہے۔ کہ ٹھنڈی ہوا بھی اس پہ اپنا اثر چھوڑتی ہے۔ گرم لو بھی اس کو متاثر کر دیتی ہے۔ تو ایک طرف انسان کو اللہ نے خوب طاقتیں دی ہیں اور دوسری طرف اس کو لاچار ضعیف اور کمزور بھی بنایا ہے ۔تو یہ انسان کی دو متضاد صفات ہیں ۔کہ ایک رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی طاقتور نظر آتا ہے۔ اور دوسرے رخ سے دیکھیں تو انسان انتہائی مجبور نظر آتا ہے۔ اتنا مجبور کہ نہ اپنی مرضی سے پیدا ہو سکتا ہے نہ اپنی مرضی سے اپنے لیے خاندان کا انتخاب کر سکتا ہے کہ میں کس خاندان میں پیدا ہوں گا اور نہ ہی دنیا سے جانے کے لیے وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو یہ انسان کو متضاد قسم کی صفات اللہ تبارک و تعالی نے عطا کر رکھی ہیں۔
شریعت چونکہ تمام انسانوں کے لیے ہے جہاں انسانوں میں مشترکہ طور پر اللہ نے کمزوری کی صفت پیدا کی ہے۔ وہاں انسان اپنی صفات کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں ایک انسان ذرا طاقتور ہوتا ہے، ایک انسان کمزور ہوتا ہے، ایک کی صحت اچھی ہوتی ہے، ایک کی کچھ کمزور ہوتی ہے، ایک کی عمر زیادہ ہوتی ہے، دوسرے کی کم ہوتی ہے۔ اور شریعت تمام انسانوں کے لیے ہے چاہے وہ کمزور ہو یا چاہے وہ طاقتور ہو تو اللہ تبارک و تعالی نے شریعت کے نزول میں تمام انسانوں کے مصلحت کو پیش نظر رکھا کہ جب احکامات دیے جاتے ہیں تو اس میں جہاں طاقتور کا خیال رکھا جاتا ہے۔ وہاں کمزور کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ جہاں صحت مند کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ وہاں ایک بیمار نے بھی شریعت پہ عمل کرنا ہے اس نے بھی دین پر چلنا ہے۔ اس نے بھی اللہ تبارک و تعالی کی رضامندی کے حصول کو اپنے لیے یقینی بنانا ہے۔ تو اللہ تبارک و تعالی نے کمزوروں کی کمزوری کو پیش نظر رکھتے ہوئے دین میں ایک بنیادی صفت کو شامل کیا جسے ہم یسر عربی زبان میں کہتے ہیں اور اردو میں آسانی کہتے ہیں ۔کہ اللہ تبارک و تعالی نے دین میں آسانی کو پیدا کیا کہ یہ دین آسان ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی جگہ جگہ ہے۔
وَمَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ
ترجمہ:”اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی” اللہ تبارک و تعالی نے تمہارے لیے دین میں کوئی مشقت نہیں رکھی،مشکل نہیں رکھی۔
مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ
ترجمہ: “اللہ تم پر کوئی تنگی مسلط کرنا نہیں چاہتا” اللہ تبارک و تعالی نے یہ ارادہ نہیں کیا یہ اس کی مشیت نہیں ہے کہ وہ تم لوگوں کو مشقت میں ڈال دے۔ بلکہ اللہ جل جلالہ انسان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔
لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف انداز اور مختلف پیرائے میں اللہ تبارک و تعالی نے ان حقائق کو واضح فرمایا کہ لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ نہ کسی نابینا کےلیے اس میں کوئی گناہ ہے۔اگر کوئی نابینہ ہے تو اللہ جل جلالہ نے اس پر کوئی مشقت نہیں رکھی، اس کے لیے آسانی رکھی ہے۔ اسی طریقے سے اگر کوئی شخص مریض ہے بیمار ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے بھی کوئی مشکل نہیں رکھی، مشقت نہیں رکھی ،بلکہ اللہ جل جلالہ نے ان بیماروں کے لیے ان لاچاروں کے لیے اسانی رکھی ہے کہ اگر کوئی صحت مند ہے تو وہ دین میں عظیمت کے راستے پر عمل پیرا ہو، کہ جو دین کے اصل احکامات ہیں کہ نماز کھڑے ہو کر پڑھنی ہے، روزہ رکھنا ہے اور اسی طریقے سے جو بھی احکامات صحت مند کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ تو جو شخص حالت صحت میں ہے تو وہ ان احکامات میں عمل کرے۔ لیکن دوسری طرف اگر کوئی شخص کمزور ہے، مجبور ہے، بیمار ہے، کوئی اور ذوق(ضعف) اس کو لاحق ہے تو اللہ تبارک و تعالی نے اس کے لیے دین میں نرمی پیدا کی ہے۔ آسانیاں رکھی ہیں۔ قران کریم میں جگہ جگہ اپ کو اس قسم کی آیات ملیں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے متعدد فرامین میں دین کی اس بنیادی صفت کو واضح فرمایا ۔ چنانچہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ
اِنَّ هَذَا الدِّيْنَ يُسْرٌ وَلَنْ يُشَادَّ الدِّيْنَ اَحَدٌ الاَّ غَلَبَهُ
اللہ تعالی نے اس دین میں آسانی رکھی ہے اور اگر کوئی شخص اس کو پچھاڑنے کی کوشش کرے گا یعنی دین میں شدت لانے کی کوشش کرے گا بے جا سختی پیدا کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ دین اس کو عاجز کر دے گا ۔ وہ نہیں لا سکتا اس میں حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالی عنہ یہ دونوں بڑے معروف جلیل القدر صحابہ ہیں ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کا گورنر بنا کر بھیجا کہ جب یمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور انہوں نے مسلمانوں کی حکومت کو تسلیم کیا تو یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج تھا کہ جب کوئی نیا قبیلہ مسلمان ہوتا یا کوئی نیا علاقہ مسلمانوں کی حکومت میں شامل ہوتا تو مدینہ طیبہ سے اس کے گورنر کا تعین ہوتا تھا۔ تو جب یمن شامل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دو جلیل القدر صحابہ بھیجے ایک کو یمن کے ایک حصے پر گورنر بنایا اور دوسرے کو دوسرے حصے پہ ابو موسی اشعری اور حضرت معاذ رضی اللہ عنھما ۔ اور بھیجتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بڑی قیمتی نصیحتیں فرمائیں کہ آپ لوگوں نے نظام کیسے چلانا ہے چنانچہ ان میں ایک بنیادی نصیحت یہ بھی فرمائی کہ يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا مشکلات نہ پیدا کرنا ایک اور روایت میں آتا ہے۔ ایک دیہاتی تھا (اعرابی) اس زمانے میں دیہاتی تہذیب اور تمدن سے دور تھے ۔تو بعض اوقات وہ ایسی حرکت کر بیٹھتے تھے جن کا مہذب دنیا میں تصور نہیں ہوتا ایک اعرابی آتا ہے اور مسجد نبوی میں کھڑے ہو کے نماز پڑھتا ہے ساتھ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں صحابہ کی مجلس لگی ہے اب وہ نماز پڑھتا ہے اور نماز کے بعد دعا کرتا ہے وہ دعا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
اللَّهُمَ ارْحَمْنِى وَمُحَمَدَاً
یا اللہ مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر
اور ہم دونوں کے سوا کسی پہ رحم نہ کرنا دیہاتی تھا ہم دونوں کے سوا کسی پہ رحم نہ کرنا یہ اپنے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا اظہار کر رہا تھا ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعاً تم نے تو ایک وسیع چیز کو محدود کر دیا اللہ کی رحمت بڑی وسیع ہے اور تم نے اس کو بڑا محدود بنا دیا اب وہ دیہاتی اٹھا اور جا کر مسجد کے کسی حصے میں پیشاب کرنے لگا تو صحابہ اٹھے اس کو روکنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو روکا اور پھر فرمایا کہ جب یہ اپنی حاجت سے فارغ ہو جائے تو ایک ڈول پانی کا بہا دینا اور اس وقت آپ نے صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر ایک جملہ ارشاد فرمایا آپ نے ارشاد فرمایا اِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِيْنَ وَلَمْ تُبَعَثُ مُعَسِّرِيْنَ کہ تمہیں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے تمہیں مشکلات کھڑی کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا اور ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو سکھاؤ لوگوں کو تعلیم دو لیکن مشکلات مت پیدا کرو بلکہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ایک روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو معاملے درپیش ہوتے تو آپ ان میں سے آسان معاملے کو اختیار فرماتے ہیں یعنی دو معاملے آپ کے سامنے پیش ہوئے ہیں ایک نسبتا مشکل ہے ایک کچھ آسان ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے آسان معاملے کا انتخاب فرماتے تاکہ آگے امت کے لیے مشکلات نہ کھڑی ہوں متعدد روایات آپ کو ایسی ملیں گی کہ امت کو مشکل سے بچانے کے لیے بارہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خواہش پر عمل نہیں کیا کہ میں اگر اپنی خواہش پہ عمل کروں تو امت کے لیے مشکل نہ پیدا ہو جائے چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ میں یہ چاہتا تھا کہ ہر نماز کے لیے مسواک کو لازم کر دو لیکن اگر ایسا ہوتا تو امت کے لیے مشکل کھڑی ہو جائے اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میری امت مشکل میں پڑ جائے گی تو میں ہر نماز کے ساتھ مسواک کو لازم کر دیتا کہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کرو گے تو نماز ہوگی لیکن چونکہ امت کے مشکل میں پڑنے کا اندیشہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خواہش پہ عمل نہیں فرمایا اور مسواک کو لازم نہیں کیا ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ عشاء کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ تاخیر فرمائی کچھ دیر ہو گئی تو جب آپ تشریف لائے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ کافی دیر ہو چکی ہے بچوں اور عورتوں پر تو غنودگی طاری ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جملہ ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے اپنی امت کے مشکل میں پڑھنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کا یہی وقت مقرر کرتا کہ تاخیر سے پڑھی جائے لیکن چونکہ امت کو مشکل ہو جائے گی اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہ عمل نہیں کیا ایک اور بڑی عجیب روایت ملتی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ میرے پاس سے نکلے اور بڑے مسرور تھے آپ کا مزاج مبارک بڑا خوشگوار تھا کچھ دیر بعد تشریف لائے تو کچھ مزاج میں تنگی تھی تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ تو بڑے مسرور تشریف لے گئے تھے آپ کا مزاج بڑا خوشگوار تھا اور اب میں کچھ تنگی دیکھ رہی ہوں آپ کے مزاج میں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے کعبے میں دو رکعت نفل پڑھے ہیں اور اب مجھے یہ خوف ہے کہ کہیں میری امت کعبے میں نفل پڑھنے کو سنت نہ سمجھ بیٹھے حجۃ الوداع کا واقعہ تھا یہ حضرت عائشہ ساتھ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ تشریف لے گئے اور وہاں جا کے دو رکعت نفل پڑھے پھر جب واپس تشریف لائے تو آپ کو یہ خیال ہوا کہ نفل تو میں نے پڑھ لیے لیکن آنے والی امت کہیں میری سنت نہ اس کو قرار دے جب امت اس کو سنت سمجھے گی تو ساری امت نفل پڑھنے کے لیے بیت اللہ پر لپکے گی۔
رش پڑے گا امت مشکل میں آئے گی۔ کسی کو موقع ملے گا کسی کو نہیں ملے گا ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے اس قدر رؤف اور رحیم تھے کہ کوئی ایسا معاملہ شریعت کا حصہ نہ بن جائے جو آگے جا کر امت کے لیے دشواریاں پیدا کرے تراویح سے آپ واقف ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں رات کے اول حصے میں اپنی انفرادی نماز پڑھتے تھے ۔جو عام دنوں میں نہیں ہوتی تھی صرف تین دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی امامت کروائی۔صحابہ نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی چوتھے دن بھی صحابہ موجود تھے مسجد بھری ہوئی تھی لیکن آپ باہر تشریف نہیں لائے اور صبح جب آپ تشریف لائے صحابہ منتظر تھے ساری رات تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں اس خوف سے تمہیں نماز پڑھانے نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز اس پہ فرض نہ ہو جائے کہ چونکہ لمبی نماز ہے اگر فرض ہو گئی تو امت کے لیے مشکل ہو جائے گی تو یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج تھا کہ امت کے لیے آسان معاملہ اختیار فرماتے تھے۔ اس امت کے لیے متعدد مقامات پر اللہ نے آسانی رکھی جو گزشتہ امتوں کو نصیب نہیں تھی۔ مجھے اور آپ کو قرآن کریم ایک دعا سکھاتا ہے کہ
رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْراً كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الذِّيْنَ مِنْ قبْلِنَا
ترجمہ: “یا اللہ ہم پر ایسا بوجھ مت ڈالیے جیسے آپ نے ہم سے پچھلے لوگوں پر بوجھ ڈالا تھا وہ بوجھ ہم پر مت ڈالیے۔”
مشہور مفسر ہیں تفسیر مظہری کہ جو مولف ہیں وہ یہ فرماتے ہیں قاضی ثنا اللہ پانی پتی رحمہ اللہ کہ گزشتہ امتوں پر 50 نمازیں فرض تھی۔ انہیں زکوۃ میں چوتھائی مال دینا پڑتا تھا ۔کپڑا ناپاک ہو جائے اسے کاٹنا پڑتا تھا ۔توبہ کرنی پڑ جائے تو اس کے لیے قتل نفس یعنی سزائے موت شرط تھی۔ یہ ان کے لیے مشکل حالات تھے۔ جو اللہ تبارک و تعالی نے اس امت کے لیے اٹھا دیے اور یہ دعا سکھائی کہ یا اللہ ہم پہ وہ بوجھ مت ڈالیے ان مشکل احکامات کو ہم پر سے اٹھا دیجیے جو گزشتہ امتوں کے لیے تھے چنانچہ اس امت کے لیے آسانی ہے کپڑا ہزار دفعہ خراب ہو جائے، نجاست اس پہ لگ جائے، آپ اس کو دھو لیں پاک ہو جائے گا۔ ہزار دفعہ گناہ ہو جائے توبہ کر لیں اللہ معاف کرنے کا وعدہ کرتا ہے نمازیں پانچ ہیں زکوۃ چوتھائی مال نہیں بلکہ صرف اڑھائی فیصد ہے تو اس طریقے سے اللہ جل جلالہ نے اس امت کے لیے دین میں آسانی اور یسر کو شامل کیا۔ شریعت کی مختلف پابندیاں ہیں اللہ تعالی نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا کچھ چیزوں کو حلال قرار دیا لیکن اگر کوئی شخص لاچار ہو جائے تو اسے حرام کے ارتکاب کی بھی اجازت ہے۔ جس کا ذکر خود قران کریم کرتا ہے
اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ
اس نے تو تمھارے لیے بس مردار جانور، خون اور سور حرام کیا ہے۔
اللہ تعالی نے تمہارے اوپر یہ چیزیں حرام کی ہیں اَلْمَيْتَةَ ( مردار) مردار نہیں کھا سکتے والدَم (خون) خون حرام ہے خنزیر کا گوشت حرام ہے اور ہر وہ جانور جس کو ذبح کرتے وقت اس پہ اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا جائے تو وہ بھی حرام ہے لیکن یہ معمول کے حالات ہیں کہ جب انسان معمول کی زندگی بسر کر رہا ہے تو وہ حرام اور حلال کی پابندی کرنے کا پابند ہے
فَمَنِ اضْطُرَّ
ہاں اگر کوئی شخص مجبور ہو جائے حالت اضطرار میں ہو غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ وہ حد سے بڑھنے والا نہ ہوفَلَا اِثْمَ عَلَيْهِ تو اس کے اوپر گناہ نہیں ہے اگر وہ ان حرام کا ارتکاب کر لے کہ ایک شخص مرنے والا ہے اسے کھانا میسر نہیں ہے اور اسے یقین ہے کہ اگر مجھے کوئی مردار تک نہ ملا تو میری موت واقع ہو جائے گی تو اسے بقدر ضرورت مردار کھانے کی اجازت ہے اور یہ اجازت صرف قران کریم اس شخص کو دیتا ہے جو اس حد تک مجبور ہو کہ اس کی زندگی کو خطرہ ہو۔ ابھی بھی آسانی ہی کا ایک پہلو ہے کہ شریعت نے جو پابندیاں لگائی ہیں ایک مجبور اور لاچار شخص کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے شریعت ان پابندیوںمحدود وقت کے لیےکو اٹھا دیتی ہے۔ چنانچہ متعدد روایات بھی اس نوعیت کے ملتی ہیں حضرت عبدالرحمن بن عوف اور غالبا حضرت ابو طلحہ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک غزوے میں انہیں جوؤں کی شکایت ہوئی۔ تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشم پہننے کی اجازت عطا فرمائی۔ ممکن ہے ریشم سے جوئیں ختم ہوتی ہیں تو آپ ﷺنے ان کے حالات کے پیش نظر ان کو ریشم پہننے کی اجازت دی۔اب ریشم مرد کے لیے حرام ہے جائز نہیں ہے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو صحابہ کرام کی مجبوری کے پیش نظر ان کے لیے ریشم کو محدود وقت کے لیے حلال قرار دیا۔
ایک اور صحابی ہیں ہر فجر بن اسعد رضی اللہ تعالی عنہ جنگ خلاف جو زمانہ جاہلیت میں عربوں نے لڑی تھی مشہور جنگ ہے اس جنگ میں ان کی ناک کٹ گئی تھی چنانچہ انہوں نے چاندی کی ناک بنوائی۔ بعد میں اس میں کچھ بدبو وغیرہ پیدا ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سونے کی ناک بنوانے کی اجازت دی۔ جس میں یہ عیب نہیں ہوتا ہوگا۔ اب مرد کے لیے سونا کا استعمال جائز ہی نہیں ہے ۔لیکن اس صحابی کی مجبوری کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سونے کے استعمال کی اجازت عطا فرمائی۔ اسی طریقے سے ایک اور روایت میں حرا والوں کا تذکرہ ہے کہ حرا یہ مدینہ منورہ میں ایک علاقہ تھا۔ آج کل تو ہر جگہ آبادی ہے اس وقت مدینہ سے باہر جو جنگل تھا جہاں پتھر ہوتے تھے۔ تو اس کو ہر نہ کہا جاتا تھا۔ تو وہاں کچھ آبادی تھی تو اس میں ایک گھرانہ تھا اور وہ انتہائی حد تک فقر اور فاقہ سے محتاج ہوا اور انہیں کوئی مردہ اونٹنی دستیاب تھی ۔تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مجبوری کے پیش نظر وہ مردار کھانے کی اجازت عطا فرمائی۔ اس نوعیت کے متعدد روایات ہیں میں نے بطور مثال کے چند چیزیں آپ کے سامنے ذکر کیں ۔تو خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنے بندوں کی مجبوریوں کو، لاچاریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے شریعت کے احکامات میں یسر اور آسانی کو مدنظر رکھا اور بندوں کو کوئی ایسا حکم نہیں دیا جس میں وہ مشکل میں پڑ جائیں ۔ جو پابندیاں دی ہیں اگر کوئی آدمی اس قدر لاچار ہو جائے کہ اس کے لیے اس پابندی پر عمل کرنا مشکل ہو جائے تو اس کی شدید مجبوری کو دیکھتے ہوئے اس کے لیے محدود وقت کے طور پر وہ پابندی اٹھا دی جاتی ہے۔ لیکن یاد رکھیے کہ آسانی کی کچھ حدود ہوتی ہیں ۔شریعت میں آسانی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن آسانی کی کچھ حدود ہیں ۔دو چیزیں یاد رکھیں ۔ایک ہوتی ہے آسانی اور ایک ہوتی ہے نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنا اتباع ہوا اور ان دونوں میں بال برابر فرق ہے۔ عین ممکن ہے کہ جس چیز کو میں آسانی سمجھ کر اس پہ عمل پیرا ہو رہا ہوں وہ آسانی نہ ہو بلکہ وہ میرے اندر کی نفسانی خواہشات ہو۔اتباع ہوا کے لیے قرآن کریم بڑے سخت الفاظ استعمال کرتا ہے وَاتَّبَعَ الْهَوَىکہ وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلا فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کتا ہوتا ہے۔ آگے اس کی اپنی تفصیلات ہیں تو اس قدر شدید الفاظ میں قرآن کریم اس شخص کو مخاطب کرتا ہے جو اللہ کے احکامات کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہےز تو آسانی اور اتباع ہوا میں بعض اوقات بڑا باریک فرق ہوتا ہے۔ آسانی کی اپنی حدود ہیں۔ ان حدود میں رہتے ہوئے آپ دین میں جس قدر آسانیوں پر عمل پیرا ہوں گے اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے اس کی اجازت ہے۔ لیکن اگر حدود سے باہر نکل کر اپنے لیے آسانیاں تلاش کریں گے تو پھر یہ آسانی نہیں ہوگی یہ اتباع ہوا ہوگا جو میرے اور آپ کے لیے زہر قاتل بن کر قیامت والے دن اللہ کے دربار میں ہمارے لیے ذلت اور رسوائی کا سبب بنے گا ۔اب حدود کیا ہیں! اب مثال سے سمجھیے فرض کریں ایک شخص مسافر ہے اب مسافر کو شریعت نے قصر کی اجازت دی ہے قرآن کریم کا واضح ارشاد ہے
وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ
ترجمہ: “اور جب تم زمین میں سفر کرو اور تمھیں اس بات کا خوف ہو کہ کافر لوگ تمھیں پریشان کریں گے، تو تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں قصر کرلو۔”
کہ اگر تم سفر میں ہو تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے کہ تم نماز میں قصر کر لو قرآن کریم صرف اتنا کہتا ہے اگر تم سفر میں ہو تو نماز میں قصر کر لو۔ یہاں ایک چیز یاد رکھیے کہ قرآن کریم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریحات کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں ہے۔ قرآن کریم تو اجمالی حکم دیتا ہے اور آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فریضہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وضاحت فرماتے ہیں اپنے فرمودات کے ذریعے، ارشادات کے ذریعے اور اپنے عمل کے ذریعے۔ اگر پیغمبر کی تفصیلات اور تشریحات سے الگ کر کے قرآن کریم کو سمجھا جائے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کو پیغمبر کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اللہ تعالی براہ راست بھی کتاب بھیج سکتا تھا۔ لیکن اللہ نے براہ راست کتابیں نہیں بھیجی ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء ساتھ بھیجے ہیں۔ مقصد کیا تھا کہ وہ اللہ کے احکامات کی تشریح اور اس کی عملی تطبیقات اس کے بندوں کو کر کے دکھائیں ۔اب قرآن کریم میں حکم ہے اقیموا الصلاۃ نماز پڑھو اب صرف اتنا حکم ہے کہ نماز پڑھو اب نماز کیسے پڑھو؟ اس کی تفصیلات کیا ہیں؟ تشریحات کیا ہیں؟ اس کے قواعد اور ضوابط کیا ہیں؟ یہ تمام تر چیزیں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں ملیں گی ۔آپ کے ارشادات میں ملے گی۔ اب اسی طریقے سے یہاں پر بھی قران کریم صرف اتنا کہتا ہے کہ جب تم سفر میں ہو تو قصر کر لو۔ اب سفر کس کو کہتے ہیں؟ میں یہ سامنے گھر سے نکل کر مسجد آیا ہوں کیا یہ بھی سفر ہے آپ لوگ اپنے گھروں سے گاڑیوں میں سوار ہو کر مسجد آئے ہیں۔ کیا یہ بھی سفر ہے ؟آپ لوگ یہاں سے نکل کر اپنے ہی شہر میں آدھا پونا گھنٹہ سفر کر کے جاتے ہیں۔ تو کیا یہ بھی سفر شرعی ہوگا یا نہیں؟ ان سوالات کے جوابات ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث میں ملیں گے۔ آپ کی سنت میں ملیں گے۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو تربیت یافتہ صحابہ کرام تھے ان کا عمل قرآن کریم کے اجمالی حکم کی وضاحت کرے گا چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ قصر کب کرتے ہیں عبداللہ بن مسعود یہ وہ صحابی ہیں جو ایک طویل عرصے تک جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اب ان سے کسی نے دریافت کیا کہ آپ قصر کب کرتے ہیں؟ تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ جب میں سویدا تک جاتا ہوں۔ سویدا مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر ایک علاقہ تھا۔ اب یہ انہوں نے تحدید کی اب ظاہر ہے کہ صحابی تحدید اپنی طرف سے نہیں کرتا پیغمبر کی تعلیمات کی روشنی میں کرتا ہے۔ اب انہوں نے تحدید کی کہ مدینہ سے لے کر سویدا تک جب ہم جاتے ہیں تو قصر کرتے ہیں۔ آگے پھر فقہاء نے اس کی مزید وضاحت کی ہے کہ مدینہ سے لے کر سویدا تک کا جو علاقہ تھا اس کی مسافت تین دن کی تھی۔ ایک اور روایت میں آ تا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مکہ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا ! اے اہل مکہ تم قصر اس وقت کیا کرو جب تمہیں اصفہان تک جانا ہو اب یہ اصفہان مکہ سے کچھ فاصلے پر ایک علاقہ تھا۔ اب اس قسم کی اور بھی روایات ہیں تو ان روایات کو بنیاد بنا کر فقہاء نے ان میں غور و خوض کیا کہ یہ جو مختلف تحدیدات ہیں احادیث میں کہ اس علاقے سے لے کر اس علاقے تک قصر کر سکتے ہو اور اس سے کم میں نہیں ۔تو اس کے درمیان مدت کتنی ہے تو اس وقت کے اعتبار سے تین دن کی مدت کی تعین کی ۔بعد میں 48 میل کی اور اج کل کلومیٹر کے اعتبار سے 78 تو یہ جو 78 ان کا موقف فقہاء نے اپنایا ہے یہ اپنی طرف سے نہیں اپنایا ۔یہ جو علماء اپ کو بتلاتے ہیں کہ 78 کلومیٹر سے کم میں قصر جائز نہیں ہے تو یہ کوئی اپنی طرف سے نہیں بتلاتے۔ بلکہ یہ امت کی امت کے جو چوٹی کے علماء تھے ان کی صدیوں پر محیط غور و خوض کا نتیجہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل پر صحابہ کرام کے اقوال پر غور کر کے میرے اور آپ کے لیے انہوں نے ایک مقدار طے کر دی ۔کہ اگر اس مقدار کے سفر پر آپ نکلو گے تو وہ سفر شرعی کہلائے گا۔ اس میں آپ قصر کر سکتے ہیں اور اگر اس سے کم کا سفر ہوگا تو وہ میرے اور آپ کے لیے تو سفر ہوگا لیکن شریعت اس کو سفر نہیں سمجھتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واضح ارشاد ہے کہ عورت اگر تین دن کے سفر پر نکلے تو محرم کے ساتھ نکلے گی گویا آپ نے اشارہ دیا کہ شرعی سفر وہ ہوتا ہے جو تین دن پر مشتمل ہو اب یہ تمام تر تفصیلات کیا ہیں یہ قرآن کریم کے اس حکم کی تفصیلات ہیں کہ قرآن کریم کہتا ہے اگر تم نے سفر پر نکلنا ہو تو پھر تم قصر کر سکتے ہو اب اس اجمالی حکم کی تفصیل صحابہ کرام کے اقوال اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی روشنی میں فقہاء نے ہمارے لیے ایک تعین کر دی۔ اب آپ یہ سمجھیے کہ جو شخص اس تہذیب کی روشنی میں اس پر عمل نہ کرنا چاہتا ہوکہ وہ سفر شرعی پہ نکلے تو روزہ چھوڑ دے۔ سفر شرعی پہ نکلے نماز میں قصر کرے تو یہ وہ دین میں آسانی پر عمل پیرا ہے جو کہ مطلوب ہے ۔اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں جب بھی افرا تفری میں ہوں یا میں جب بھی گھر سے نکلوں یا میں جب بھی ذرا اپنے شہر میں کچھ دور تک جاؤں یا میں جب بھی کسی ایمرجنسی کی کیفیت میں ہوں تو میں قصر کروں گا۔ تو یہ چونکہ آسانی کی ان حدود سے بالا ایک جملہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے اقوال کے بالکل مخالف ہے۔ لہذا ہم اس کو آسانی نہیں کہیں گے اس کو دین میں آسانی نہیں کہا جائے گا بلکہ یہ اتباع ہوا کہلائے گا تو میرے بھائی دین میں آسانی اللہ تبارک و تعالی نے رکھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو برقرار رکھا لیکن جس طریقے سے آج کل میرے اور آپ کی زبان میں ایک جملہ ہوتا ہے کہ جی دین میں آسانی ہے لہذا نماز چھوڑ دو نماز کو موخر کر دو یا قصر کر لو یا میں ایمرجنسی میں ہوں میں نماز ادھر ادھر کر لوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عین غزوات کی حالت میں بھی نماز کو نہیں چھوڑا اگر دین میں اتنی ہی آسانی ہوتی نماز کے معاملے میں تو غزوات میں صلوۃ الخوف کے الگ حکم کی ضرورت کیا تھی نماز موخر کر دیتے غزوہ چند گھنٹوں کا ہوتا ہے چند دنوں کو اتنی ہوتا تو صلوۃ الخوف کا جو الگ حکم آیا اس کا مقصد ہی یہ تھا کہ عین غزوے کی حالت میں بھی نماز پڑھنی ہوگی دشمن کے سامنے کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھنی ہوگی۔ اپنے وقت پر پڑھنی ہوگی ہاں پھر اللہ نے اس میں سہولت پیدا کر دی کہ عام نماز میں چلنے کی اجازت نہیں ہے صلوۃ الخوف میں اللہ نے چلنے کی اجازت دے دی تاکہ مجاہدین کو افواج کو سہولت ہو تو جب بھی طے شدہ قواعد کے تحت تلاش کرنی ہوگی وہ آسانی کہلائے گی ۔اور اگر طے شدہ قواعد سے ہٹ کر میں اپنے طور پر اس دور میں کھڑا ہو کر پچھلے تمام فقہاء کے جو فیصلے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں ان کو بالائے طاق رکھتے ہوئے میں اپنے طور پر ایک فیصلہ کرتا ہوں کہ یہ دین میں آسانی ہے تو وہ آسانی نہیں ہوگی وہ میری اپنی نفسانی خواہشات کا نتیجہ ہوگا اللہ تبارک و تعالی مجھے اورآپ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔