رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کا انداز

nabi-ki-guftagu

رسول اللہ ﷺ کی گفتگو کا انداز
مفہوم حدیث:
حضرت عائشہ کی ایک روایت کا مفہوم ہے کہ نبی کریم ﷺ تم لوگوں کی طرح مسلسل تیزی کے ساتھ گفتگو نہیں فرماتے تھے . بلکہ آپ ﷺ کی گفتگو میں ہر لفظ اس طرح جدا جدا ہوا کرتا کہ سننے والا شخص اس کو یاد بھی کر سکتا تھا .

تشریح:
نبی کریم ظ کا گفتگو کا انداز اس قدر دلکش تھا کہ مخاطب اس کو سنتے ہی اپنے دل میں بسا لیا کرتا تھا .آپ ﷺ کی گفتگو نہ اس قدر طویل ہوتی کہ سننےوالا اکتا جائے اور نہ اس قدر مختصر ہوتی کہ سننے والے کو سمجھ ہی نہ آئے. نبی ﷺ نہایت اعتدال اور توازن کے ساتھ کلام فرماتے تھے.
چنانچہ اس روایت میں آپ نے سنا کہ حضرت عائشہ نبی کریم ﷺ کا طرزتکلم بیان فرما رہی ہیں . کہ نبی کریم ﷺ کی گفتگو کے انداز میں تیزی نہیں تھی بلکہ جب آپ ﷺ بات چیت فرماتے تو ہر لفظ جدا جدا کرکے ادا فرماتے . یہاں تک کہ سننے والا اگر چاہتا تو اس کو سن کر یاد بھی کر لیتا .
ایک اور روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ بعض اوقات مخاطب کی ضرورت کے لیےایک بات کو تین بار دہراتے .
یہ ہمارا بنیادی فرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک عادت کو پڑھیں اور پھر اس پر عمل کریں ، یہ ایمان کا تقاضا ہے . اللہ تبارک و تعالی مجھے اور آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *